Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Al-An'am Ayah 71

6:71
قل اندعو من دون الله ما لا ينفعنا ولا يضرنا ونرد على اعقابنا بعد اذ هدانا الله كالذي استهوته الشياطين في الارض حيران له اصحاب يدعونه الى الهدى ايتنا قل ان هدى الله هو الهدى وامرنا لنسلم لرب العالمين ٧١
قُلْ أَنَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰٓ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ كَٱلَّذِى ٱسْتَهْوَتْهُ ٱلشَّيَـٰطِينُ فِى ٱلْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُۥٓ أَصْحَـٰبٌۭ يَدْعُونَهُۥٓ إِلَى ٱلْهُدَى ٱئْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧١
قُلۡﱿ
أَنَدۡعُواْﲀ
مِنﲁ
دُونِﲂ
ٱللَّهِﲃ
مَاﲄ
لَاﲅ
يَنفَعُنَاﲆ
وَلَاﲇ
يَضُرُّنَاﲈ
وَنُرَدُّﲉ
عَلَىٰٓﲊ
أَعۡقَابِنَاﲋ
بَعۡدَﲌ
إِذۡﲍ
هَدَىٰنَاﲎ
ٱللَّهُﲏ
كَٱلَّذِيﲐ
ٱسۡتَهۡوَتۡهُﲑ
ٱلشَّيَٰطِينُﲒ
فِيﲓ
ٱلۡأَرۡضِﲔ
حَيۡرَانَﲕ
لَهُۥٓﲖ
أَصۡحَٰبٞﲗ
يَدۡعُونَهُۥٓﲘ
إِلَىﲙ
ٱلۡهُدَىﲚ
ٱئۡتِنَاۗﲛﲜ
قُلۡﲝ
إِنَّﲞ
هُدَىﲟ
ٱللَّهِﲠ
هُوَﲡ
ٱلۡهُدَىٰۖﲢﲣ
وَأُمِرۡنَاﲤ
لِنُسۡلِمَﲥ
لِرَبِّﲦ
ٱلۡعَٰلَمِينَﲧ
٧١ﲨ
Ask ˹them, O  Prophet˺, “Should we invoke, other than Allah, those ˹idols˺ which cannot benefit or harm us, and turn back to disbelief after Allah has guided us? ˹If we do so, we will be˺ like those disoriented by devils in the wilderness, while their companions call them to guidance, ˹saying˺, ‘Come to us!’ Say, ˹O Prophet,˺ “Allah’s guidance is the ˹only˺ true guidance. And we are commanded to submit to the Lord of all worlds,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 6:71 to 6:73

جو لوگ خداکے سوا دوسرے سہاروں پر اپنی زندگی قائم کریں ان کی مثال اس مسافر کی سی ہوتی ہے جو بے نشان صحرا ميں بھٹک رہاہو۔ صحرا میں بھٹکنے والا مسافر فوراً جان لیتاہے کہ اس نے اپنا راستہ کھو دیا ہے۔ راستہ دکھائی دیتے ہی وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑتاہے۔ مگر جو لوگ خدا کے بجائے دوسرے سہاروں پر جیتے ہیں ان کو اپنے بے راہ ہونے کی خبر نہیں ہوتی۔ ان کے آس پاس پکارنے والے پکارتے ہیں کہ اصل راستہ یہ ہے، ادھر آجاؤ، مگر وہ اس قسم کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلے معاملہ میں آدمی کی عقل کھلی ہوئی ہوتی ہے، صحیح راستہ کو دیکھنے میںاس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیںہوتی۔ جب کہ دوسری صورت میں آدمی کي عقل شیطان کے زیر اثر آجاتی ہے۔ اس کی سوچ اپنے فطری ڈھنگ پر کام نہیںکرتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سن کر بھی نہیں سنتا اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا۔

خداکے سوا دوسری چیزوں کا طالب بننا ایسی چیزوں کا طالب بننا ہے جو اس دنیا میں فائدہ نقصان کی طاقت نہیں رکھتیں۔ زمین وآسمان اپنے پورے نظام کے ساتھ انکار کررہے ہیں کہ یہاں ایک ہستی کے سوا کسی اور ہستی کو کوئی طاقت حاصل ہو۔ اسی طرح جن دنیوی رونقوں کو آدمی اپنا مقصود بناتا ہے اور ان کو پانے کی کوشش میں سچائي اورانصاف کے تمام تقاضوں کو روند ڈالتا ہے، وہ بھی سر اسر باطل ہے۔ کیوں کہ انسانی زندگی اگر اسی ظالمانہ حالت پر تمام ہوجائے تو یہ دنیا بالکل بے معنی قرار پاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا خود غرض اور انانیت پسند لوگوں کی تماشا گاہ ہے۔ حالانکہ کائنات کا نظام جس باکمال خدا کی تجلیاں دکھا رہا ہے اس سے انتہائی بعید ہے کہ وہ اس طرح کی کوئی بے مقصد تماشا گاہ کھڑی کرے۔

دنیا کی موجودہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ خدا کسی بھی دن اپنا نیا حکم جاری کرکے اس نظام کو توڑ دے گا۔ اس کے بعد انسان کی موجودہ آزادی ختم ہوجائے گی اور خدا کا اقتدار انسانوں پر بھی اسی طرح قائم ہوجائے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات پر قائم ہے۔ اس وقت کامیاب وہ ہوں گے جنھوںنے امتحان کے زمانہ میں اپنے کو خدا کے حوالے کیا تھا، جو کسی دباؤ کے بغیر اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے آگے ہمہ تن جھک جانے والے تھے۔