3

آیت 37 وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ان کے پاس دلیل بس یہی ایک رہ گئی تھی کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتار دی جاتی ؟ اسی ایک حجت پر انہوں نے ڈیرہ لگا لیا تھا۔ باقی ساری دلیلوں میں وہ مات کھا رہے تھے۔ دراصل انہیں بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ ان حالات میں کوئی حسی معجزہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی مشیت میں نہیں ہے۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ کی طبیعت کی تنگی ضیق کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرآن میں بار بار اس کا ذکر آتا ہے۔ سورة الحجر میں اسی کیفیت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ بھنچتا ہے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں۔۔قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلآی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کا معجزہ دکھانے کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس طرح ان کی مہلت ختم ہوجائے گی۔ یہ ہماری رحمت ہے کہ ابھی ہم یہ معجزہ نہیں دکھا رہے۔ یہ بد بخت لوگ جس موقف پر مورچہ لگا کر بیٹھ گئے ہیں اس کی حساسیت کا انہیں علم ہی نہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ معجزہ نہ دکھانا ان کے لیے ہماری رحمت کا ظہور ہے اور ہم ابھی انہیں مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ دودھ ابھی اور بلویا جائے ‘ شاید اس میں سے کچھ اور مکھن نکل آئے۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%