3

آیت ” نمبر 138۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔

آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو ۔ یہ سب اقوال ان کا زعم تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے مذہب میں پھر اجازت صرف کاہنوں ‘ گدی نشینوں اور بعض رئیسوں کو تھی ۔ پھر انہوں نے مویشیوں میں سے بعض کو اسی طرح اپنے اوپر بھی حرام کردیا تھا جن کا ذکر سورة مائدہ میں ہوچکا ہے ۔ ” اللہ نے کسی جانور کو بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام قرار نہیں دیا “ ۔ یہ انہوں نے از خود قرار دیا کہ ان جانوروں پر سواری حرام ہے ۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا کہ بعض جانوروں کے اوپر اللہ کا نام نہ لیاجائے گا یعنی سواری کے وقت ‘ دودھ نکالنے کے وقت اور نہ ان کے ذبح کے وقت بلکہ ان پر الہوں کا نام لیا جائے گا جن کے نام وہ مختص ہوچکے تھے ۔

ابن جریر افتراء علی اللہ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ’ ان لوگوں نے بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے ‘ اللہ پر افتراء باندھا ہے ‘ اللہ پر جھوٹ بولا ہے کیونکہ انہوں نے از خود بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی تھی ۔ اس آیت میں اللہ نے اس بات کی تردید کردی کہ اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ اور نبی کریم ﷺ اور مومنین کو یہ اطلاع کردی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔

یہاں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہلیت کے وہ خدوخال کون سے ہیں ۔ جو اکثرجاہلیتوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ بعض لوگ دیدہ دلیری سے کام لے کر اس دنیا کو محض مادہ قرار دیتے ہیں اور بعض اگرچہ بےحیائی میں اس حد تک آگے نہیں جاتے اور خدا کا سرے سے انکار نہیں کرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ دین تو صرف عقیدے کا نام ہے ۔ یہ کوئی نظام زندگی یا اجتماعی ڈھانچہ ‘ یا سیاسی اور اقتصادی نظام نہیں ہے جو پوری زندگی کو اپنے دائرہ اختیار میں لے سکتا ہو۔

جاہلیت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر جاہلیت ایک مخصوص دنیاوی نظام قائم کرتی ہے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے ۔ البتہ ہر جاہلیت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مذہب کا احترام کرتی ہے اور وہ اپنے خدوخال دین ہی سے لیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلیت کا یہ انداز نہایت ہی خطرناک اور گہری عیاری اور چالاکی پر مبنی ہوتا ہے ۔ عالمی عیسائیت اور عالمی صہیونیت نے اس علاقے میں جو کبھی دارالاسلام تھا ‘ اور جہاں شریعت الہی قانون کی حیثیت رکھتی تھی ‘ یہی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ یہ پالیسی انہوں نے ترکی میں عظیم لیڈر کے تجربے کی ناکامی کے بعد اپنائی ہے ۔ یاد رہے کہ ترکی کا یہ عظیم لیڈر خود انہوں نے مصنوعی طور پر پیدا کیا تھا ‘ اس نے انہی کی ہدایت پر ترکی سے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس لئے کہ ترکی کی خلافت اسلامیہ اس کرہ ارض پر عظمت اسلام کی آخری نشانی تھی ‘ لیکن ترکی میں ان کی اعلانیہ ملحدانہ پالیسی بری طرح ناکام رہی اور اس نے اس علاقے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کیا ۔ اس ملحدانہ پالیسی نے اعلانیہ دین سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ چناچہ یہ پالیسی وہاں کے اجتماعی نظام سے بالکل نامانوس رہی کیونکہ اہالیان ترکیہ کے دلوں میں ابھی تک محبت اسلام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ چناچہ اس تجربہ کے بعد عالمی صلیبیت اور صہیونیت نے نئے تجربے شروع کیے ‘ جن کے مقاصد تو وہی ہیں البتہ ان نئے تجربات میں کمالی غلطیوں کو نہیں دہرایا جاتا ۔ چناچہ وہ اب جو سازشیں کرتے ہیں وہ دین کے پردے میں رہ کر کرتے ہیں ۔ وہ دینی نتظیمیں قائم کرتے ہیں جو یا تو اعلانیہ ان مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں اور یا ان کا مقصد یہ ہوتا ہے ۔ وہ ان تنظیموں کے بعض جزوی مسائل کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان جزوی خرابیوں کے علاوہ جو کچھ ہے وہ درست ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اسلام کے خلاف یہ نہایت ہی گہری سازش ہے جو دین اسلام کے خلاف شیاطین جن وانس نے تیار کی ہے ۔

صلیبی اور صہیونی اس عر سے میں پوری طرح اپنے مقاصد کے لئے کام کرتے رہے ۔ باوجود مذہبی اختلافات کے وہ باہم دگر متحد ومتفق رہے اور باہم تجربات اور مہارتوں کاتبادلہ کرتے رہے ۔ بظاہر وہ اس ترکی تجربے کے بھی خلاف رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ ترکوں کی تحریک بھی دراصل احیائے اسلام کی تحریک ہے اور یہ کہ ترکی حکومت محض زبانی طور پر اپنے آپ کو لادینی حکومت ظاہر کر رہی ہے ۔

متشرقین صلیبی اور صہیونی استعمار کو فکری غذا مہیا کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بڑی محنت کی ہے کہ ترکی تجربہ فی الواقعہ ملحدانہ تجربہ نہ تھا اور نہ محنت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ ترکی تجربے کے ملحدانہ خو وخال کی وجہ سے اس کے اثرورسوخ اور فعالیت میں میں کمی واقع ہوگئی تھی ۔ مستشرقین کی جانب سے اسلامی تحریک کے خلاف یہ تباہ کن حملہ تھا لیکن ترکی کی تحریک الحاد اب اس قابل نہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ فعال ہوسکے ۔ دور جدید میں مستشرقین کی جانب سے اسلام کے خلاف کاروائی خود اسلام کے عنوان سے کی جارہی ہے ۔ یہ لوگ اسلامی نظریات کے مفہوم بدل رہے ہیں ۔ اسلام کے لئے لوگوں کے جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں اور اس کو جاہلی رنگ دے رہے ہیں ۔ دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسان کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسانی کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے بےراہ روی پر ڈال رہے ہیں ۔ پھر وہ جاہلیت کے ہر نشان کو ایسا ثابت کر رہے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے اور اس کو ان ممالک میں رواج دے رہے ہیں ۔ جہاں اسلام کے بارے میں لوگوں کے جذبات حساس نہیں۔ یوں وہ عالم اسلام کو صلیبیت اور صہیونیت کے دام تذدیر میں پھنساتے ہیں اور ان کی یہ تحریک ان صلیبی اور صہیونی جنگوں سے زیادہ کامیاب ہے جو وہ اسلام کے خلاف گزشتہ تیرہ سو سال سے لڑ رہے ہیں ‘ لیکن حقیقت یہ ہے ۔

آیت ” ِ سَیَجْزِیْہِم بِمَا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (138)

” عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا ۔ “