3

(آیت) ” نمبر 132۔

اہل ایمان کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ شیاطین کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ اور سب لوگوں کے اعمال ریکارڈ شدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (132)

” اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے رسول بھیجے ‘ یہ محض اس کا کرم ہے کہ اس نے ایسا کیا ‘ اس لئے کہ وہ غنی بادشاہ ہے ‘ اسے ان کے ایمان کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہے ۔ نہ ان کی جانب سے عبادت اور بندگی کی کوئی احتیاج ہے ۔ اگر وہ نیک بنتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لئے نیک بنیں گے ۔ اسی طرح اللہ رحمت کا اظہار اس وقت بھی علی وجہ الاثم ہوتا ہے کہ اللہ اس دنیا میں نافرمانوں کو بھی مہلت دیتا ہے ورنہ وہ اس بات کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ سب کو ہلاک کردے اور ان کی جگہ کوئی دوسری قوم اور نسل لے آئے ۔