3

(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)

” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “

رسالت ایک نہایت ہی عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے ۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے جس میں ازلی اور ابدی ارادہ الہیہ ایک بندے کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ عالم بالا اور انسان کی محدود دنیا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ آسمان اور زمین آپس میں مل جاتے ہیں ‘ دنیا اور آخرت ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس میں سچائی کے کلیات انسانی دلوں ‘ انسانی واقعات ‘ انسانی تاریخ اور عملی دنیا پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اس میں ایک انسان اپنی ذات سے الگ ہوجاتا ہے اور خالص اور کامل اللہ کا ہوجاتا ہے ۔ محض نیت اور عمل کا خلوص ہی نہیں بلکہ اس مخصوص انسان کا ظرف بھی اس عظیم کام کے لئے خالی ہوجاتا ہے ۔ ذات رسول باری کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے ۔ رسول اور خدا کے درمیان براہ راست رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ اتصال صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ رسول کی ذات اپنی ماہیت کے اعتبار سے اس رابطے کے لئے صالح اور قابل ہوجائے ۔ اس کے اندر ایسی صلا حیت پیدا کردی جائے کہ وہ اس پیغام کو وصول کرسکے ۔

اس لئے یہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ امانت رسالت وہ کہاں لا کر رکھ دے ۔ اس مقصد کے لئے کس ذات کا انتخاب کرے ۔ کیونکہ اللہ کے اربوں بندے اس زمین پر آتے جاتے اور موجود رہتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے کہ ان اربوں میں سے کسی ایک کا انتخاب فرما لیتا ہے ۔

جو لوگ مقام رسالت تک پہنچنا چاہتے ہیں یا وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو دینی تعلیمات عطا کی جائیں جو رسولوں کو دی گئی ہیں ‘ لیکن یہ لوگ ایسا مزاج رکھتے ہیں جو مسلمان کے لئے موزوں ہی نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کو محور کائنات سمجھتے ہیں جبکہ رسولوں کا مزاج بالکل دوسرا ہوتا ہے ۔ رسول کا مزاج تو یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے رسالت کو قبول کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کو اس پیغام میں نشوونما دیتا ہے اور پھر رسول کو یہ منصب ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ وہ نہ اس کے بارے میں کوئی خبر رکھتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا امیدوار ہوتا ہے ۔

(آیت) ” وما کنت ترجو ان یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک “۔ تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تمہارے طرف کتاب کا القاء ہوگا ‘ یہ تو تمہارے رب کی ایک رحمت تھی ۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اکابر جاہل ہیں اور اس منصب کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ یہ منصب کسی کو عطا کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔

یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر قرآن ان کی بات کا دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتا ہے ۔

(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ “ (6 : 124) ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ “

چونکہ اللہ جانتا تھا ‘ اس لئے اس نے یہ منصب موزوں شخص کو دے دیا ۔ نہایت ہی مکرم اور مخلص شخص کے سپرد ہوا ۔ پوری تاریخ میں اس نے رسولوں کے معزز سلسلے کو جاری کیا اور اسے خاتم النبین ﷺ پر ختم کیا ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مجرمین کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ان کا انجام توہین آمیز ہوگا اور انہیں شدید عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔

(آیت) ” سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)

” قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ ‘

اللہ کے ہاں انکو ذلت اس لئے نصیب ہوگی کہ انہوں نے اپنے متبعین کے ہاں اپنے آپ کو سربلند کیا ہوا تھا اور وہ بوجہ کبر و غرور قبول حق سے انکار کرتے تھے اور ان برائیوں کے ساتھ ساتھ مقام رسالت کی تمنا بھی کرتے تھے ۔ اور چونکہ انہوں نے اسلامی تحریک کے مقابلے میں سازش کا جال پھیلایا ‘ رسولوں کی دشمنی اختیار کی اور مومنین کو اذیت دی ‘ اس لئے انہیں سخت عذاب دیا جائے گا ۔

اب یہ بیان اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ میں ایمان ہو تو کیا صورت حال ہوتی ہے اور ہدایت سے انسان کے شب وروز کس طرح بدل جاتے ہیں ۔