Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Al-Jumu'ah 62:1

62:1
يسبح لله ما في السماوات وما في الارض الملك القدوس العزيز الحكيم ١
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ٱلْمَلِكِ ٱلْقُدُّوسِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ ١
يُسَبِّحُ
لِلَّهِ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَمَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
ٱلۡمَلِكِ
ٱلۡقُدُّوسِ
ٱلۡعَزِيزِ
ٱلۡحَكِيمِ
١
Göklerde olanlar ve yerde bulunanlar, hükümran, çok kutsal, güçlü ve Hakim olan Allah'ı tesbih ederler.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

اس آغاز میں بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کررہی ہے۔ لیکن یہ کائنات جو تسبیح کررہی ہے اس میں سے جن چیزوں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اور اس کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں۔ سورت کا نام جمعہ ہے۔ اس میں یہ تعلیم ہے کہ جمعہ کی اہمیت کیا ہے ، اس دن تمام امور سے فارغ ہوکر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور جمعہ کی نماز کے وقت لہو ولعب اور محنت وتجارت چھوڑ کر ، اللہ کے ذکر کی طرف آنا چاہئے۔ لوگ جمعہ کو چھوڑ کر اور خطبہ جمعہ چھوڑ کر جس مال تجارت کی طرف بھاگے ہیں ، اس کا مالک تو اللہ ہے ، جو بادشاہ مطلق ہے۔ دنیا کا یہ مال اس کے اختیار میں ہے اور وہ ” القدوس “ ہے۔ وہ مقدس ہے اور پاک ہے اور پوری کائنات اس کی پاکی اور تقدیس بیان کررہی ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس کی تقدیس چھوڑ کر لہو ولعب اور تجارت کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ وہ ” العزیز “ ہے ، یہودیوں کو جو دعوت مباہلہ دے رہا ہے ، وہی غالب ہے ، وہ سب لوگوں کو اٹھا کر ان سے حساب و کتاب کا انتظام کرتا ہے۔ اور وہ ” الحکیم “ ہے۔ جس نے عربوں جیسی ناخواندہ قوم سے ایک رسول اٹھایا جو آیات پڑھ کر سناتا ہے ، علم و دانش سکھاتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم خطبہ جمعہ کا مقصود ہے۔ غرض جو صفات یہاں آغاز میں لائی گئی ہیں ، سورت کا مضمون بھی انہی کی سمت پر ہے۔