Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
5:75
ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه صديقة كانا ياكلان الطعام انظر كيف نبين لهم الايات ثم انظر انى يوفكون ٧٥
مَّا ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌۭ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ ثُمَّ ٱنظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٧٥
مَّا
ٱلۡمَسِيحُ
ٱبۡنُ
مَرۡيَمَ
إِلَّا
رَسُولٞ
قَدۡ
خَلَتۡ
مِن
قَبۡلِهِ
ٱلرُّسُلُ
وَأُمُّهُۥ
صِدِّيقَةٞۖ
كَانَا
يَأۡكُلَانِ
ٱلطَّعَامَۗ
ٱنظُرۡ
كَيۡفَ
نُبَيِّنُ
لَهُمُ
ٱلۡأٓيَٰتِ
ثُمَّ
ٱنظُرۡ
أَنَّىٰ
يُؤۡفَكُونَ
٧٥
The Messiah, son of Mary, was no more than a messenger. ˹Many˺ messengers had ˹come and˺ gone before him. His mother was a woman of truth. They both ate food.1 See how We make the signs clear to them, yet see how they are deluded ˹from the truth˺!
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
See more...

(آیت) ” مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75)

مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔

حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ صدیقہ کی زندگی میں کھانا ایک واقعی امر تھا ۔ زندوں کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور یہی حضرت مسیح اور ان کی والدہ صدیقہ ؓ کی بشریت پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔ اور ان کی مابعد الطبیعیاتی تعبیرات کے مطابق ان کے ناسوت ہونے پر یہ بری دلیل ہے ۔ کھانا کھانا بیشک انسان کی جسمانی طلب اور جسمانی احتیاج کی دلیل ہے ۔ اور جو ذات زندہ رہنے کے لئے کھانے کی محتاج ہو وہ الہ کس طرح بن سکتی ہے ۔ اللہ تو بذات خود زندہ ہے ۔ بذات خود قائم ہے ‘ بذات خود باقی ہے ‘ وہ کھانا کھانے کا محتاج نہیں ہے اور کھانے کی قسم کی اشیاء نہ اللہ کی ذات میں داخل ہوتی ہے اور نہ خارج ہوتی ہیں ۔

اس سیدھی سادی حقیقت کو دیکھتے ہوئے اور صاف ستھری بات کو دیکھتے بات کو دیکھتے ہوئے چونکہ کوئی معقول انسان اس میں مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے اس کے ہوتے ہوئے ان کے موقف پر سخت تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس منطق سلیم سے پھر بھی منہ موڑتے ہیں ۔ ” دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جارے ہیں ۔ “

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا جامہ پہنانا چاہا ان کے لئے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انسانی زندگی ہمیشہ تھکا دینے والی حقیقت رہی ۔ یہ بات آپ کی تعلیمات کے بھی خلاف تھی ‘ اس لئے یہ لوگ ہمیشہ بحث ومباحثے اور جدل وجدال میں مبتلا رہے ۔ اور عیسائیوں کی الہیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی لاھوتیت اور ناسوتیت ہمیشہ لایخل مسئلہ رہی ۔

اب قرآن کی منطق سلیم کو ایک دوسرے زاویے سے ملاحظہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور تعجب خیرا استکراہ کے ساتھ ۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved