یہ آیات ایک ایسے وقت میں نازل ہوئیں جب کفار مکہ نبی اکرم ﷺ کی دعوتِ حق کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ وہ آپ ﷺ کو کبھی کاہن (غیب کی خبریں دینے والا)، کبھی مجنون (نعوذ باللہ) اور کبھی شاعر قرار دیتے، تاکہ آپ کی باتوں کو غیر سنجیدہ بنا سکیں۔ یہ رویہ صرف نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ ہر دور میں جب کوئی حق کی بات کرتا ہے، تو اسے مجنون، شدت پسند، جذباتی، یا گمراہ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ یہی رویہ پچھلی ام...See more