اور دوسری طرف :
والذین امنوا ۔۔۔۔۔ من ربھم (47 : 2) “ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ اور ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے ”۔
والذین امنوا (47 : 2) میں محمد ﷺ پر ایمان لانا شامل ہے لیکن یہاں اس کا ذکر علیحدہ بطور تاکید کیا گیا ہے تا کہ اس کی صفت میں یہ جملہ لایا جائے۔
وھو الحق من ربھم (47 : 2) اور سابق ایمان کی تاکید مزید ہوجائے اور عمل صالح کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ایمان زندہ ہے ، موجود ہے اور فعال ہے۔
کفر عنھم سیاتھم (47 : 2) “ اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں ”۔ یہ خبر ہے الذین کی۔ اور کفار کے اعمال کو ضائع کردیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ اعمال بظاہر خیر یہ تھے۔ اور ایمان نہ ہونے اور کفر کے وجود نے ان کو ضائع کردیا جبکہ مومنین کے سیئات کو بھی دور کردیا گیا اور وہ بخش دئیے گئے۔ یہ مکمل مقابلہ ہے کہ کفر سے نیک اعمال ضائع ہونے اور ایمان سے برے اعمال فنا ہوتے ہیں۔ یہ ہے اہمیت ایمان کی۔
واصلح بالھم (47 : 2) “ اور ان کا حال درست کر دیا ”۔ کسی کا حال درست کردینا ، ایک بڑی نعمت ہے جو ایمان کے نیتجے اور اثر میں کیا جاتا ہے۔ خوشحال اور فارغ البال ہونا اطمینان ، آرام ، اللہ کی سلامتی اور رضا مندی کا مظہر ہوتا ہے۔ جب انسان اندر سے مطمئن ہو تو اس کا شعور ، اس کی سوچ اور اس کا قلب اور ضمیر اور اس کے افکار اور اعصاب اور اس کا پورا نفس نہایت اچھی طرح کام کرتے ہیں۔ اور وہ امن و سلامتی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ قلبی اطمینان سے اور کوئی بڑی نعمت نہیں ہے۔ یہ ایک افق ہے ، جو نہایت روشن ہے اور صاف و شفاف ہے اور یہاں تک رسائی صرف اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے۔
یہ کہ کافروں کے اعمال ضائع کر دئیے اور مومنین کی برائیاں معاف کردیں یہ کسی دوستی یا رشتہ داری کی بناء پر نہیں ، محض اتفاق کے طور پر بھی نہیں بلکہ ایک موثر اور متعین اصول کے مطابق ایسا کیا گیا۔ اس ناموس فطرت کے مطابق جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ یہ ناموس حق ہے جو اساس تخلیق ہے اور جس کے مطابق اللہ نے زمین و آسمان بنائے ہیں۔