You are reading a tafsir for the group of verses 46:4 to 46:12
3

آیت نمبر 4 تا 12

اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے سامنے یہ کائناتی شہادت پیش کریں ۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں تو بحث و مناظرہ نہیں کیا جاسکتا ، وہ سامنے موجود ہے۔ جو انسانی فطرت کو خطاب کرتی ہے۔ اس کی منطق اور اس کا انداز گفتگو بھی فطری ہے۔ اس کتاب کائنات اور فطرت انسانی کے درمیان گہرا ربط بھی موجود ہے۔ اس کو نہ دبایا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہ فطری سوال ہے۔

ارونی ما ذا خلقوا من الارض (46 : 4) “ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ ” یہ ممکن نہ تھا اور نہ ہے کہ انسانوں کے خودساختہ ان معبودوں میں سے کسی نے خواہ وہ پتھر ہوں ، درخت ہوں ، جن ہوں یا فرشتے ، زمین میں سے کوئی حصہ یا کوئی چیز پیدا کی ہے۔ فطری سوچ ، حقیقت واقعہ ، اور ہر چیز بذات خود یہ پکار پکار کہتی ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔

ام لھم شرک فی السموت (46 : 4) “ یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کوئی حصہ ہے ” ۔ کوئی انسان یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتا کہ ان مذکورہ معبودوں کا آسمانوں میں کوئی حصہ یا شرکت ہے۔ آسمانوں کے اندر ایک سطحی نظر بھی بتا دیتی ہے کہ خالق کائنات کس قدر عظیم ہے اور پھر یہ کہ وہ واحد ہے۔ ایک ہی نظر میں ایک معقول انسان تمام گمراہیوں اور انسانوں کو جھٹک کر پھینک دیتا ہے۔ اللہ تو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کائنات پر ایک گہری نظر ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ اس لیے اللہ بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے۔ کائنات کی اس کھلی کتاب پر نگاہ تو ڈالو۔ اس کے نظام پر غور کرو ، اور تمہارے دل و دماغ پر اس کائنات سے جو سگنل آتے ہیں ، ان سے پوچھ لو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔

اس کے بعد بعض نہایت ہی گمراہ درجے کے انسانوں کی راہ بند کرنے کے لئے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ایک سوال کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات زیادہ گمراہی میں آگے بڑھ کر کوئی یہ زعم بھی کرسکتا ہے کہ ہمارے پاس شرک کی نقلی دلیل ہے یا کوئی اور بہانہ کرسکتا ہے حالانکہ دراصل اس کے پاس کوئی حجت و دلیل نہیں ہے۔ اس لیے قرآن مجید ایسے لوگوں کا ناطقہ بند کرنے کے پہلے ہی مطالبہ کردیتا ہے کہ لاؤ اگر کوئی حجت و لیل تمہارے پاس ہے اور پھر قرآن مجید ان کو استدلال کا طریقہ بھی بتا دیتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے کے لئے صحیح طریق کار کیا ہوا کرتا ہے۔

ایتونی بکتب ۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (46 : 4) “ اس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو ”۔ یا تو اللہ کی کوئی سچی کتاب پیش کرو۔ یا کتب سماوی میں سے کوئی اثر تمہارے پاس باقی ہو اسے لے آؤ۔ قرآن سے قبل جس قدر کتب سماوی بھی نازل ہوئی ہیں وہ تو قرآن کی تائید میں شہادت دیتی ہیں کہ اللہ وحدہ خالق ہے اور وہی کائنات کا مدبر ہے اور اس میں تمام چیزوں کو ایک قدر اور انداز سے پیدا کرنے والا ہے۔ ان کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب بھی متعدد الہہ کے خرافات کو تسلیم نہیں کرتی۔ یا یہ کہ زمین و آسمان میں سے کوئی چیز ان الہوں نے بنائی ہو یا وہ کسی چیز کے بنانے میں شریک ہوں کوئی علم یا اثر یا نص کتب سماوی میں نہیں ہے۔

قرآن کریم ان کے سامنے اس کائنات کی شہادت بھی پیش کرتا ہے۔ کائنات کی شہادت تو فیصلہ کن شہادت ہوتی ہے۔ یوں قرآن مجید ان کے عقائد کو حجت و دلیل سے محروم کردیتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ بحث و دلیل کا صحیح اندازہ کیا ہوتا ہے اور یہ سب باتیں ایک ہی آیت میں سکھا دی جاتی ہیں جس کے الفاظ اگرچہ بہت تھوڑے ہیں لیکن زور دار اور فیصلہ کن ہیں۔

اس کے بعد قرآن کریم ان کے سامنے یہ نکتہ پیش کرتا ہے کہ جن چیزوں کو تم الٰہ بناتے ہو ، اور پھر پکارتے ہو ، ان کی تو کوئی حقیقت ہی نہیں ہے ، یہ تو تمہاری اس پکار کو سنتے ہی نہیں ، اس دنیا میں تم اگر ساری زندگی ان کو پکارتے رہو اور قیامت میں تو بھی وہ صاف صاف انکار کردیں گے۔ لہٰذا اپنی اس حرکت پر ذرا غور تو کرو۔

ومن اضل ممن یدعوا۔۔۔۔۔ غفلون (46 : 5) واذا حشر الناس ۔۔۔۔۔ کفرین (46 : 6) “ آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اس سے بھی بیخبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں ، اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ”۔

بعض لوگ ایسے تھے جو بتوں کو بذات الٰہ مانتے تھے۔ اور بعض ان کو فرشتوں یا نیک لوگوں کی شبیہ سمجھتے ہوئے الٰہ مانتے تھے۔ بعض درختوں کو الٰہ مانتے تھے ، بعض فرشتوں اور شیطان کو الٰہ مانتے۔ ان میں سے کوئی بھی پکارنے والے کی پکار کا جواب نہ دے سکتا تھا ، یا اگر پکار سنتا تھا تو کوئی فائدہ نہ دے سکتا تھا ، پتھر اور درخت تو نہ کچھ سن سکتے تھے اور نہ جواب دے سکتے تھے۔ فرشتے بھی مشرکین کی اس حرکت پر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ شیاطین تو بہرحال ان کو مزید گمراہ کرنے کے لئے وسوسہ اندازیاں کرتے تھے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور لوگ اٹھائے جائیں گے تو یہ تمام الٰہ جو پوجے جاتے تھے ، یہ اپنے گمراہ عبادت گذاروں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ یہاں تک کہ شیطان جس کا کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، وہ یہ کہے گا۔

وقال الشیطن ۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔

یوں قرآن مجید ان کو خود اپنے دعویٰ اور اپنے خیالات کے سامنے پیش کرتا ہے کہ ان دعوؤں کا انجام دنیا اور آخرت میں کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ اس سے قبل ان کو کائنات کی نشانیاں بتائی گئیں کہ یہ شرک کے عقائد کا انکار کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ صرف ایک الٰہ العالمین ہے اور خود مشرکین کی دنیا اور آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وہ اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں۔

قرآن مجید یہاں ان بت پرستوں پر تنقید کرتا ہے جو ایسے بتوں کو پکار رہے تھے جو ان کو کوئی نفع یا نقصان نہ دے سکتے تھے۔ نزول قرآن کے وقت ایسے روایتی زندہ اور مردہ معبود موجود تھے۔ لیکن یہ آیت صرف ان بتوں تک محدود نہیں ہے ، جو ایک خاص زمان ومکان میں ایک خاص شکل میں پکارے جاتے تھے اور ان سے امیدیں وابستہ کی جاتی تھیں۔ آیت بہت وسیع ہے اور اس میں وہ سب معبود شامل ہیں جو اللہ کے سوا کسی بھی زمان و مکان میں پائے جائیں گے۔ جن کو عوام پکارتے ہیں اور جن سے امید وابستہ کرتے ہیں اور جو ان کو کوئی نفع و نقصان نہیں دے سکتے۔ کیونکہ نفع و نقصان پہنچانے والا تو اللہ ہی ہے۔ غرض شرک اس سادہ صورت اور شکل تک محدود نہیں ہے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں پائی جاتی تھی۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ اصحاب اقتدار کو شریک کرتے ہیں۔ افسران کو شریک کرتے ہیں ، بڑے بڑے سرمایہ داروں کو شریک کرتے ہیں ، ان سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں ، لیکن یہ سب کے سب بہت ہی عاجز اور کمزور ہیں اور یہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو پکارنا شرک ہے ، ان سے امیدیں وابستہ کرنا بھی شرک ہے۔ ان سے ڈرنا بھی شرک ہے۔ لیکن یہ شرک ذرا شرک خفی ہے اور اکثر لوگ غیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

٭٭٭

اس کے بعد اس پر بحث ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی سچی دعوت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے۔ شرک کے بارے میں ان کے خیالات کا جائزہ تو خوب لیا گیا ۔ اب بتایا جاتا ہے کہ وحی اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا موقف کس قدر غلط اور غیر معقول ہے۔

واذا تتلی علیھم ۔۔۔۔۔ سحر مبین (7) ام یقولون افترہ ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (8) قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔ نذیر مبین (9) قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (10) وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (11) ومن قبلہ کتب ۔۔۔۔ وبشری للمحسنین (12) (46 : 7 تا 12) “ ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق ان کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول ﷺ نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہو ، “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے ، تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو ، اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔

ان سے کہو ، “ میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں ”۔ اے نبی ﷺ ان سے کہو ، “ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”۔

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔

بات کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور اس کی دعوت ایسی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بڑی واضح ، دل لگتی اور کھلی باتیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قدر ذلیل اور ضدی اور کم بخت ہیں کہ یہ اس سچائی کے بارے میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ :

ھذا سحر مبین (46 : 7) “ یہ کھلا جادو ہے ”۔ حالانکہ دعوت اسلامی اور جادو کی نوعیت اور موضوع ہی مختلف ہے۔ ایک نبی اور جادوگر کے مقاصد ہی مختلف ہیں۔ یوں ان کے اس غلط موقف پر حملہ کیا جاتا ہے جس کے لئے نہ دلیل ہے اور نہ وجہ جواب ہے کیونکہ نبی ﷺ کی دعوت بہت ہی واضح ہے اور آیات بینات پر مشتمل ہے۔

اس کے بعد ان کے ایک دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ کیا کرتے تھے کہ یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑا ہوا ہے اور اللہ کی طرف منسوب ہے اور ایک افترا ہے۔ اس شبی ہے کو قرآن استفہام اور سوالیہ انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ بھی کوئی سوال ہے یا کوئی معقول انسان ایسی بات سوچ سکتا ہے ؟

ام یقولون افترہ (46 : 8) “ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اسے خود گھڑ لیا ہے ”۔ یعنی کیا وہ اس قدر جری ہوگئے ہیں کہ ایسی بات بھی کرتے ہیں حالانکہ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس طرح دیں جس طرح ایک پیغمبر کی شان ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ سوال بہت ہی لا یعنی ہے۔ اس جواب سے اظہار ہو کہ آپ کو اپنے فرائض کا اچھی طرح شعور ہے ، آپ کو اپنے رب کا بھی اچھی طرح شعور ہے۔ آپ کو اس کائنات کی حقیقی قدروں اور حقیقی قوتوں کا پورا احساس ہے ۔

قل ان افتریتہ ۔۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (46 : 8) “ ان سے کہو ، اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ میرے اور تمہارے درمیان و ہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ ان سے کہہ دو میں کیوں افترا باندھوں ؟ کس کے مفاد کے لئے یہ افترا باندھوں ؟ کن مقاصد کے لئے ایسا کروں ؟ کیا اس لیے کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو لیکن تم میری کیا مدد کرسکتے ہو ؟

قل ان افتریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا (46 : 8) “ اگر میں نے اسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ”۔ میرے افترا کی وجہ سے وہ لازماً میرا مواخذہ کرے گا۔ لہٰذا اگر تم میرے ساتھ ہو اور مجھ پر ایمان لاؤ تو اس میں مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ افترا پر جب اللہ مجھ سے مواخذہ کرے گا تو تم اس وقت کیا کرسکتے ہو۔ تم تو بہت ہی عاجز اور کمزور ہو۔ میری کیا مدد کرو گے۔

یہ ایک ایسا جواب ہے جو نبی کے شایان شان ہے جو اللہ سے ہدایات لیتا ہے اور جسے اللہ کے سوا اس کائنات میں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ اسے صرف اللہ ہی کی قوت نظر آتی ہے ۔ نیز یہ ایک منطقی اور معقول تردید بھی ہے۔ اگر کوئی ذرا اپنی عقل کو کام میں لائے ۔ ان کو جواب دے کر اس پر آپ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں۔

ھو اعلم بما تفیضون فیہ (46 : 8) “ جو باتیں تم بتاتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ” ۔ یعنی جو تم کرتے اور کہتے ہو۔ اور جن باتوں کو اللہ جانتا ہے ان پر وہ ضرور تمہیں سزا دے گا۔

کفی بہ شھیدا بینی وبینکم (46 : 8) “ میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لئے کافی ہے ”۔ اللہ گواہی بھی دے گا اور فیصلہ بھی کر دے گا اور اللہ کی گواہی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔

وھو الغفور الرحیم (46 : 8) “ وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ وہ تم پر مہربان ہوتا ہے اور اپنی مہربانی سے تمہیں ہدایت دے دیتا ہے اور تم نے جو گمراہیاں کیں انہیں بخش دیتا ہے۔ کیونکہ ایمان کے بعد سابقہ اعمال معاف کر دئیے جاتے ہیں۔

یہ ایسی تردید ہے جس میں ان کے لئے دھمکی اور ڈراوا بھی ہے ۔ ان کے لئے حوصلہ افزائی اور ایمان کا لالچ بھی ہے۔ غرض ہر طریقے سے اللہ کی کوشش ہے کہ انسانوں کے دل بدل جائیں۔ انسان کے جسم کی تار تار کو چھیڑا جاتا ہے کہ شاید نغمہ ایمان برآمد ہوجائے۔ سامعین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ معاملہ بہت اہم ہے اور یہ لوگ جو احمقانہ باتیں کرتے ہیں یہ محض بچگانہ باتیں ہیں ، محض دعوے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ داعی اعظم کے دل میں جو بات ہے اور جس کی وہ دعوت دے رہے ہیں وہ بہت ہی عظیم ہے۔ اس کی اہمیت اور عظمت کا ان کو کوئی شعور نہیں۔

وحی پر ان کے اعتراض کا ایک دوسرے زاویہ سے بھی جواب دیا جاتا ہے۔ یہ کہ وحی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ لاکھوں افراد اسے مانتے ہیں۔ آخر اس میں عجوبے کی کیا چیز ہے کہ یہ اسے جادو یا افترا کہتے ہیں۔ یہ کوئی عجیب و غریب چیز تو نہیں ہے۔

قل ما کنت بدعا ۔۔۔۔۔۔ نذیر مبین (46 : 9) “ ان سے کہو میں تو نرالا رسول تو نہیں ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں ”۔

حضرت نبی اکرم ﷺ ہی پہلے رسول نہ تھے۔ آپ ﷺ سے پہلے کئی رسول گزرے تھے۔ آپ ﷺ کا معاملہ بھی انہی کی طرح ہے۔ انہوں نے کوئی ایسا دعویٰ نہ کیا تھا۔ پہلے بھی کئی انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا ۔ اللہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون رسالت کے لئے اہل ہے۔ اس کو یہ منصب دے دیا جاتا ہے۔ اور وہ بےکم وکاست پھر تبلیغ شروع کردیتا ہے۔ یہی ہے رسالت کی حقیقت اور ماہیت ۔ رسول کا جب سرچشمہ رسالت سے مل جاتا ہے تو پھر اللہ سے رسالت کی کوئی دلیل طلب نہیں کرتا اور نہ اپنے لیے کوئی خصوصیت طلب کرتا ہے۔ پیغام ملتے ہی اپنا کام شروع کردیتا ہے۔ جو بات اس تک پہنچتی ہے اس کی تبلیغ شروع کردیتا ہے۔

وما ادری ما۔۔۔۔۔ یوحی الی (46 : 9) “ مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ کل میرے ساتھ کیا اور تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے ”۔ رسول رسالت کے کام کو اس لیے شروع نہیں کرتا کہ وہ غیب جانتا ہے یا وہ جانتا ہے کہ اس کا ، اس کی قوم کا اور اس کی دعوت کا انجام کیا ہوگا۔ وہ تو اللہ کے اشاروں اور ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے اللہ پر بڑا بھروسہ ہوتا ہے ، وہ اللہ کے ارادوں کا تابع ہوتا ہے اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ ایک ایک قدم اللہ کے حکم سے اٹھاتا ہے لیکن مستقبل اسے معلوم نہیں ہوتا۔ تمام راز اللہ کے ہاں ہوتے ہیں اور رسول مستقبل کے راز معلوم کرنے کے لئے بےچین بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور بارگاہ رب العزت کے آداب میں سے یہ بات بھی ہے کہ وہ اسی علم پر اکتفا کرے جو اسے دے دیا گیا ہو اور مستقبل کے پردوں کے پیچھے جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔ رسول تو ہمیشہ اپنے فرائض کی حدود پر کھڑا ہوتا ہے۔

وما انا الا نذیر مبین (46 : 9) “ میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ” ۔ اللہ کے دربار میں پہنچنے والوں کے یہی آداب ہوتے ہیں اور عارف باللہ لوگوں کا یہی اطمینان ہوتا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ پر عمل کرتے ہیں اور دعوت دیتے چلے جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ دعوت کا انجام دیکھتے ہیں۔ اس لیے بھی نہیں کہ دعوت کا مستقبل روشن ہوتا ہے ، یا وہ اس کے نتیجے میں چھوٹی یا بڑی کامیابی پاتے ہیں۔ پس وہ اس کام کو اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہوتا ہے اور بس۔ وہ اپنے رب سے کوئی دلیل بھی نہیں مانگتے کیونکہ دلیل تو ان کے دل میں ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے کچھ مراعات بھی نہیں مانگتے۔ اس سے بڑی رعایت یا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ ان کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ وہ اس باریک خط سے سوتر بھر آگے نہیں بڑھتے جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا اور وہ انہی نقوش پر قدم رکھتے ہیں جو ان کے لئے کھینچ دیا گیا۔

اس کے بعد ایک قریبی شہادت کی طرف ان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہ شہادت اہل کتاب کی ہے ، جو نزول وحی سے اچھی طرح واقف ہیں۔

قل ارءیتم ان کان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ القوم الظلمین (46 : 10) “ ان سے کہو ، کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ ) اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ”

یہ ممکن ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہو کہ بنی اسرائیل میں سے کسی شخص یا کسی گروہ نے قرآنی تعلیمات کو تورات اور دوسری کتابوں کے مماثل پاتے ہوئے ایمان لے آیا ہو ، کیونکہ کتب سماوی پر ایمان لانے والے لوگ جانتے تھے کہ یہ کتاب وہی بات کرتی ہے جو ان کتابوں میں ہے۔ بعض روایات میں تو آتا ہے کہ یہ آیت عبد اللہ ابن اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کی راہ میں یہ مانع ہے کہ وہ مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے اور یہ سورت مکی ہے۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ یہ عبد اللہ ابن سلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ ایسی روایات بھی ہیں کہ یہ مکی ہے اور اس کا عبد اللہ ابن سلام کے واقعہ سے تعلق نہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ مکہ کے کسی واقعہ کی طرف اشارہ ہو ، مکہ میں اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایمان لایا ہو اگرچہ یہاں اہل کتاب بہت ہی کم تھے اور مکی حالات میں ان کے ایمان لانے کی بہت سی اہمیت ہو کیونکہ مشرکین امی تھے اور ایسے معاشرے میں اہل کتاب کے ایمان لانے کی اہمیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب کی شہادت کی طرف قرآن نے کئی مقامات میں اشارہ کیا ہے اور مشرکین کی تردید کے لئے اسے پیش کیا جو بغیر دلیل اور ثبوت کے اور بغیر علم و ہنر کے اور بغیر کسی کتاب اور سماوی روایات کے قرآن کی تکذیب کرتے تھے۔

لیکن سمجھنے کی بات یہاں یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہاں احتمالی اسلوب استدلال پیش کیا ہے۔ “ تم نے بھی سوچا کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور ۔۔۔۔۔” اس طرز استدلال کی غرض یہ ہے کہ مشرکین کے اصرار کے اندر تزلزل پیدا کیا جائے۔ ان کے اصرار کی شدت کو کم کیا جائے۔ ان کے عناد کو ٹھنڈا کیا جائے۔ ان کے اندر ذرا خوف اور احتیاط پیدا کی جائے کہ اس تکذیب میں اتنا آگے نہ بڑھو۔ اور یہ استدلال کیا جائے کہ تم تو نہیں مانتے لیکن اگر سچ نکلے تو پھر۔۔۔۔ تو تمہارا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ لہٰذا اس فرض اور احتمال ہی کو مد نظر رکھ کر احتیاط کرو کہ اگر یہ سچ نکلا تو تم پر وہ تمام عذاب آجائیں گے جن سے محمد ﷺ تمہیں ڈراتے ہیں۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تکذیب کرنے میں ذرا تامل کرو۔ اور اس دعوت پر غوروفکر کرو ، قبل اس کے کہ تم اس قدر خطرناک انجام سے دوچار ہوجاؤ یا احتمال پیدا ہوجائے ایسے انجام کا خصوصاً ایسے حالات میں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص یا گروہ نے یہ شہادت بھی دے دی ہو کہ اس کتاب کی نوعیت کلام الٰہی جیسی ہے۔ اور اس طرح وہ ایمان لایا۔ اور جب یہ کتاب سب سے پہلے تمہارے لیے آئی ، تمہاری زبان میں آئی ، تمہارے آدمی کے ذریعہ آئی تو تم تکبر کرتے ہو اور انکار کرتے ہو ، یہ واضح ظلم ہے۔ واضح حق کو چھوڑ کر آگے بڑھ جانا ہے اور اس صورت میں تمہارے سب اعمال ضائع ہوں گے اور اللہ کا عذاب آجائے گا۔

ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (46 : 10) “ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا ” ۔ غرض قرآن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مختلف اسالیب کلام اختیار کرتا ہے تا کہ انسانوں کے دلوں کے شکوک دور کرے اور مختلف راستوں سے اپنی دعوت لوگوں کے دلوں تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ قرآن نے جو مختلف اسالیب اختیار کئے ہیں ، ان میں آنے والے داعیوں کے لئے سامان عبرت اور رہنمائی ہے۔ باوجود اس کے کہ خدا و رسول ﷺ دونوں کے ہاں یقیناً قرآن حق تھا ، اللہ کا کلام تھا اور اس میں شک اور احتمال کی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے یہ اسلوب بھی اپنایا گیا کہ ممکن ہے اسی طرح شدت مخالفت کم ہوجائے۔

آگے مضمون جاری ہے کہ قرآن کے بارے میں اور دین اسلام اور اسلامی نظام کے بارے میں وہ جو کہتے تھے ان کا جائزہ۔ وہ اپنی تکذیب اور کفر کی ایک اور وجہ جواز بھی پیش کیا کرتے تھے۔ یہ متکبر اور بزعم خود اونچے درجے کے لوگوں کی بات ہے۔

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ افک قدیم (46 : 12) “ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔

آغاز اسلام میں ، اسلام کی طرف فقر اور غلام لپکے تھے۔ اس لئے کبرا اور مستکبرین اس کو اچھا نہ سمجھتے تھے۔ ان کی نظروں میں یہ بات کھٹکتی تھی اور وہ یہ کہتے تھے اگر یہ دین کوئی اچھا دین تھا تو یہ لوگ کیا ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہشیار تھے اور نہ ہمارے مقابلہ میں یہ پہل کرسکتے تھے۔ کیونکہ ہم ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، زیادہ باشعور ہیں اور ان کے مقابلے میں نیک و بد کی زیادہ تمیز رکھتے ہیں۔

لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں تھا۔ یہ کبراء جو اسلام کو قبول نہ کرتے تھے تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ اس میں شک کرتے تھے یا جاہل تھے اور ان کو خبر نہ تھی کہ قرآن مجید سچائی ہی سچائی ہے۔ یا یہ کہ اس میں خبر نہیں ہے بلکہ تکبر کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے اور یہ لوگ قبولیت حق کو اپنے سے فروتر کام سمجھتے تھے۔ پھر وہ یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ اجتماعی نظام میں ان کو سوسائٹی میں جو مقام حاصل ہے یہ نہ رہے گا ، جو مفادات ان کو حاصل ہیں وہ نہ رہیں گے۔ پھر یہ بھی ایک وجہ تھی کہ آباؤ اجداد کے طریق کار کے بارے میں وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ایک قابل فخر رویہ ہے لیکن جو لوگ اسلام کی طرف پہلی ہی آواز پر لپکے ان کی راہ میں یہ موائع نہ تھے جن کی وجہ سے کبراء رک گئے تھے۔

ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ بڑے لوگ حق کو قبول نہیں کرتے۔ کبر اور غرور کی وجہ سے ان کے لئے حق کے سامنے جھکنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ فطرت کی آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ اور وہ حجت کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کبرو غرور ان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے کہ ہٹ دھرمی کرو اور نہ مانو۔ جھوٹے عذرات تراشو۔ باطل سے باطل جھوٹا دعویٰ کرو ، یہ بڑے لوگ کبھی بھی ، اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ لوگ اپنی ذات کی زندگی کا محور بنانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور جس طرح وہ اپنے موجودہ معاشرے میں محور ہوتے ہیں اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔

واذ لم یھتدوا بہ فسیقولون ھذا افک قدیم (46 : 11) “ چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی اس لیے نہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے ”۔ ہاں ، اگر “ ان ” لوگوں نے ہدایت قبول نہیں کی تو پھر لازماً سچائی میں کوئی نقص ہوگا ۔ کیونکہ بڑے لوگوں سے تو غلطی کا صدور ممکن نہیں ! لیکن یہ لوگ اپنی نظر میں اور جمہور عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو وہ جو باور کراتے تھے کہ وہ ایک معصوم اور غلطی سے پاک قسم کی مخلوق ہیں۔

بہرحال وحی کے سلسلے میں یہ پیراگراف اور مطالعاتی سفر کتاب موسیٰ کی طرف ایک اشارے پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن سابقہ کتب سماوی کے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے۔ خصوصاً تو رات اور قرآن کے درمیان گہری مماثلت ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مشن تو تورات ہی کا تکملہ تھا۔ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے ایک گواہ کی طرف بھی اشارہ ہوچکا ہے۔

ومن قبلہ کتب موسیٰ ۔۔۔۔۔۔ للمحسنین (46 : 12) “ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔ قرآن کریم نے سابقہ کتب سماوی کے ساتھ اپنے تعلق کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے خصوصاً تورات کی طرف اس لیے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تو اس کا تکملہ تھی اور ان کا مشن تورات ہی کا تسلسل تھا۔ اصل دستور قانون تو تورات ہی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے امام اور رحمت کا لقب دیا گیا جب کہ ہر رسالت اس زمین اور اہل زمین کے لئے رحمت ہوتی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

وھذا کتب مصدق لسانا عربیا (46 : 12) “ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی زبان عربی میں ہے ”۔ یہ تصدیق ان اصل کتابوں اور اصل تعلیمات کی کرتی ہے جن کے اوپر تمام ادیان سماوی قائم ہیں۔ یہ کتاب اس نظام کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق تمام اہل دین چلتے رہے۔ اور یہ کتاب اس صراط مستقیم کی تصدیق کرتی ہے جو انسانوں کو اللہ تک پہنچاتا ہے۔

اور عربی کتاب جس طرح وہ تھی ، یہاں اس لیے کہا گیا کہ اہل عرب پر اس احسان کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی زبان میں یہ کتاب اتری۔ اور ان کو یاد دلایا گیا کہ تم پر تو اللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے۔ اور خاص مہربانی اور عنایت ہوئی ہے کہ تم کو اس دعوت کا حامل بنایا اور تمہاری زبان کو یہ اعزاز بخشا کہ اس میں قرآن عظیم نازل ہوا۔ مقصد صرف زبان نہ تھی بلکہ یہ تھا۔

لینذر الذین ظلموا وبشری للمحسنین (46 : 12) “ تا کہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے ”۔

اس پہلے سبق کے آخر میں محسنین کی جزا کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم تمہارے لیے یہ خوشخبری لاتا ہے۔ بشرطیکہ وہ توحید مطلق اور ربوبیت کا اعلان کردیں اور پھر اس پر جم جائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%