وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۶:۴۶
واذا حشر الناس كانوا لهم اعداء وكانوا بعبادتهم كافرين ٦
وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُوا۟ لَهُمْ أَعْدَآءًۭ وَكَانُوا۟ بِعِبَادَتِهِمْ كَـٰفِرِينَ ٦
وَإِذَا
حُشِرَ
ٱلنَّاسُ
كَانُواْ
لَهُمۡ
أَعۡدَآءٗ
وَكَانُواْ
بِعِبَادَتِهِمۡ
كَٰفِرِينَ
٦
وهنگامی‌که مردم (در قیامت) گرد آورده شوند، آن‌ها (معبودان باطل) دشمنانشان خواهند بود، و عبادت شان را انکار می‌کنند [ سورۀ بقره آیه ملاحظه فرمائید.].
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

آیت 6 { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَآئً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیْنَ } ”اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔“ قیامت کے دن وہ پیغمبر ‘ وہ فرشتے اور وہ اولیاء اللہ جن کو لوگ مدد کے لیے پکارتے ہیں اور ان سے دعا کرتے ہیں ‘ وہ اپنے ان ”عقیدت مندوں“ سے ناراضگی اور دشمنی کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے سامنے انہیں شرمسار کیا کہ انہیں اللہ کا مدمقابل ٹھہرایا۔ اس معاملے کی ”حساسیت“ ّکا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی رض نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے الفاظ ادا کیے : مَا شَائَ اللّٰہُ وَمَا شِئْتَ یعنی جو اللہ چاہے اور جو آپ ﷺ چاہیں ! اس پر آپ ﷺ نے فوراً انہیں ٹوک دیا اور فرمایا : اَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ 1 ”کیا تم نے مجھے اللہ کا مدمقابل بنا دیا ہے ؟“ کیونکہ مشیت تو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔