جن لوگوں نے کفر کیا ، ان کے فیصلے ، دوٹوک فیصلے کے اس منظر اور اہل ایمان ، جنات کے منظر کے بعد ، اور اس سورت کے آخر میں جس کافروں نے نبی ﷺ کے بارے بہت کچھ کہا ، اور قرآن کریم کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ، اب حضور اکرم ﷺ کو آخری ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں ، جلد بازی نہ کریں۔ آپ نے تو اس سورت کے مناظر میں دیکھ لیا کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے اور یہ بہت ہی قریب ہے۔
فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔۔ القوم الفسقون (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا ؟ “
اس آیت کا ہر لفظ ہمارے لئے زاد راہ ہے۔ ہر کلمے اور ہر لفظ کے پیچھے تصاویر ، چھاؤں ، معانی ، اشارات اور فیصلوں اور قدروں کا ایک ذخیرہ ہے۔
فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت ہو رہی ہے اس دور میں آپ پر ظلم اور زیادتیوں کے پہاڑ توڑے جار ہے تھے۔ پوری قوم آپ ﷺ کے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد میں لگی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے بطور یتیم نشوونما پائی تھی اور ابتدائی دور ہی میں ایک ایک کر کے حامیوں اور اولیاء سے محروم کر دئیے گئے تھے۔ باپ گئے ، ماں گئیں ، دادا گئے اور آخر میں چچا گئے۔ پھر آپ ﷺ کی وفا دار بیوی گئیں اور آپ ﷺ اللہ اور اللہ کی دعوت کے لئے فارغ ہوگئے۔ اس طرح اللہ کے سوا ہر سہارے سے محروم ہوگئے۔ آپ ﷺ کو بمقابلہ اجنبیوں کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ اذیت ملی۔ آپ ﷺ نے ایک ایک فرد سے ملاقات کی ، ایک ایک قبیلے سے ملاقات کی کہ میری مدد کرو ، لیکن ہر بار آپ ﷺ منفی جواب کے ساتھ لوٹے۔ بعض لوگوں نے تو مذاق اڑایا۔ بعض نے تو آپ ﷺ کے پیچھے اوباش لگادئیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاؤں لہولہان ہوگئے۔ لیکن آپ ﷺ نے مذکورہ بالا دعا سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ اس لیے یہاں آپ ﷺ کو رب ذوالجلال کی طرف سے تسلی کی ضرورت تھی ۔
فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو “۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی دشوار گزار راستہ ہے ۔ دعوت اسلامی کا راستہ بہت ہی مشکل اور بہت ہی تلخ ہے۔ اس کے لئے تو ذات محمدی کی ضرورت ہے۔ جو ہر طرف سے کٹ جائے ، دعوت کے لی کے یکسو ہوجائے۔ پختگی اور ثبات ، باطن کی صفائی اور شفافی میں رب کی ہدایت پر چلے۔ اللہ کے احکام کے مطابق صبرو ثبات کا مظاہرہ کرے اور دعوت کے مخالفین سے انتقام یا ان کے انجام بد کے لئے شتابی نہ کرے۔
لیکن راستے کی مشقتوں اور زخموں کے لئے مرہم کی بھی ضرورت ہے۔ مشکلات کے لئے صبر ایوبی چاہئے۔ تلخیوں کے لئے ایک میٹھا گھونٹ بھی چاہئے اور یہ میٹھا گھونٹ اللہ کی سربند رحمت کا۔
فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کر “۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے جس طرح ایک دن کا ایک گھٹنہ یا گھڑی بھر۔ آخرت سے پہلے تمام زمانہ بھی دراصل ایک گھڑی ہی ہے۔ اس پورے مکان و زمان کے نقوش انسانی ذہن کے پردے پر اتنے بھی نہ رہیں گے جس طرح دن کے چند لمحات کے نقوش ، پھر یہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں یہ ابدی دنیا کے دورازے پر ہیں۔ صرف اس قدر وقت ہے کہ ہلاکت سے قبل ان تک پیغام پہنچ جائے۔
بلغ فھل یھلک الا القوم الفسقون (46 : 35) ” بات پہنچا دی گئی ! اب نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا “۔ نہیں ، کیونکہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لہٰذا ہر داعی کو صبر کرنا چاہئے اور یہ صبر ایک مختصر وقت کے لئے ہے۔ پھر اللہ کے وعدے کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا کہ فاسق ہی ہلاک ہوں گے۔