3

آیت 30 { قَالُوْا یٰــقَوْمَنَــآ اِنَّا سَمِعْنَا کِتٰـبًا اُنْزِلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی } ”انہوں نے کہا : اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ السلام ٰ کے بعد نازل ہوئی ہے“ گویا وہ ِجنات ّحضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے۔ یہاں پر جنات کے اس قول کے حوالے سے یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ تورات کے بعد جو ”کتاب“ نازل ہوئی وہ قرآن ہے۔ اگرچہ ہم عرف عام میں انجیل کو بھی کتاب کہہ دیتے ہیں لیکن وہ اصطلاحی مفہوم میں باقاعدہ ”کتاب“ نہیں تھی۔ اس لیے کہ اس میں شریعت نہیں تھی۔ دراصل لفظ ”کتاب“ میں لغوی اعتبار سے شریعت قوانین ‘ احکام ‘ فرائض وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں احکام کی فرضیت کا ذکر اکثر ”کتب“ کے مشتقات کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ سورة النساء کی آیت 103 میں نماز کے اوقات کے حوالے سے ”کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا“ کے الفاظ آئے ہیں ‘ پھر سورة البقرۃ کی آیت 235 میں ”کتاب“ کا لفظ ”عدت“ کے مترادف کے طور پر آیا ہے : { حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ }۔ اور ”کُتِبَ عَلَیْکُمْ“ کے الفاظ تو قرآن میں بہت تکرار سے آئے ہیں۔ ظاہر ہے مذکورہ جنات اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی تھے تو وہ لازماً انجیل کو بھی جانتے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کا ذکر کرنے کے بجائے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیا کہ آپ علیہ السلام کے بعد اب ایک کتاب نازل ہوئی ہے جس کی تلاوت ہم سن کرا ٓئے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ اپنے اصل مفہوم کے اعتبار سے لفظ ”کتاب“ کا اطلاق تورات پر ہوتا ہے یا پھر قرآن پر ‘ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شریعت ِموسوی علیہ السلام کے بعد جو شریعت آئی ہے وہ شریعت ِمحمدی ﷺ ہے۔ { مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ”تصدیق کرتی ہوئی اس کی جو اس کے سامنے موجود ہے یعنی تورات ‘ راہنمائی کرتی ہے حق کی طرف اور ایک سیدھے راستے کی طرف۔“ ”طریق مستقیم“ کا بھی وہی مفہوم ہے جو ”صراطِ مستقیم“ کا ہے۔ طریق اور صراط دونوں کے لغوی معنی راستے کے ہیں۔ اسی طرح لفظ سبیل بھی راستے کے معنی دیتا ہے اور ”سواء السبیل“ کے معنی بھی سیدھے راستے کے ہیں۔