3

آیت 16{ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِہِمْ فِیْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّۃِ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول فرمائیں گے ‘ اور ہم ان کی خطائوں سے بھی درگزر فرمائیں گے ‘ اور وہ ہوں گے جنت والوں میں سے۔“ { وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ } ”یہ وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا۔“ ان آیات میں ایک ایسے شخص کے کردار کی تصویر دکھائی گئی ہے جو اپنے والدین کا نیک اور صالح بیٹا ہے۔ شعور کی پختگی کو پہنچتے پہنچتے اس کے دل و دماغ میں خیالات و نظریات کا جو ہیولا تیار ہوا ہے اس کا خوبصورت عکس اوپر آیت 15 کے دعائیہ الفاظ سے جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد آئندہ آیات میں جس کردار کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ اس کے برعکس ہے۔