You are reading a tafsir for the group of verses 46:13 to 46:14
3

آیت نمبر 13 تا 14

یہ کہ انہوں نے ربنا اللہ کہہ دیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جو انہوں نے کہہ دی۔ یہ محض ایک عقیدہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی کا اقرار ہے۔ زندگی کی تمام سرگرمیوں کا نام ہے ربنا اللہ۔ اللہ ہی ہمارا رب ، ہماری سوچ میں بھی ، ہمارے نظریات میں بھی ، ہمارے اعمال میں بھی اور اس دنیا میں ہمارے پورے تعلقات میں بھی۔

اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہم اسی کی بندگی کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے اور اسی کا رخ کریں گے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا تمام وسائل و ذرائع اسی کے ہیں اور اس کے سوا کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ کسی اور سے کوئی طمع و لالچ جائز ہے۔

اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا ہر سرگرمی ، ہر سوچ اور ہر تقدیر اسی کی طرف ہے ، اور ہر چیز میں اسی کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا فیصلے بھی وہی کرے گا ، شریعت اور قانون بھی اسی کا ہوگا اور ہدایت اور رہنمائی بھی اسی کی ہوگی۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے ، لہٰذا اس کائنات میں جو لوگ ہیں جو اشیاء ہیں وہ ہمارے ساتھ مربوط ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ کیونکہ ان کا رب بھی اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہمارا رب ہے تو نظام زندگی بھی اسی سے اخذ کریں گے۔ یہ محض الفاظ ہی نہ ہوں گے محض عقیدہ ہی نہ ہوگا ، بلکہ ایک ربانی نظام ہوگا۔

ثم استقاموا (46 : 13) “ اور پھر اس پر جم گئے ”۔ یہ دوسری شرط ہے۔ یہ اس طرح کہ وہ اسلامی نظام کو قبول کرنے کے بعد اس پر جم گئے۔ ان کا دل اور ان کا نفس اس پر مطمئن ہوگیا ، ان کے خیالات اور تصورات اس پر جم گئے ، ہر قسم کا اضطراب اور شک ختم ہوگیا ، تمام دوسری دلچسپیاں اور تمام ۔۔۔۔۔۔ ختم ہوگئیں ، تمام میلانات اور رحجانات ختم ہوگئے۔ یہ بات یاد رہے کہ دنیا کی دلچسپیاں متنوع اور جاذب ہوتی ہے اور کسی نظام اور طریق کار پر جم جانا بڑا ہی مشکل کام ہے ، جگہ جگہ انسانوں کے لئے پھسلنے کے مقامات ہوتے ہیں اور رکاوٹیں ہوتی ہیں اور ہر طرف سے اپنی طرف کھینچنے کے لئے آوازیں اٹھتی ہیں۔

ربنا اللہ (46 : 13) “ اللہ ہی ہمارا رب ہے ” کہنے کے بعد پورا نظام زندگی اپنانا ہوتا ہے اور اس پر جم جانا جاتا ہے اور جن لوگوں کو اللہ نے معرفت حق اور استقامت علی الحق عطا کردی وہ بہت ہی بڑے اور مختار لوگ ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے حق یہ فیصلہ صادر ہوا۔

فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (46 : 13) “ ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ”۔ وہ کیوں ڈریں اور کیوں پریشان ہوں۔ جس نظام کو انہوں نے اپنایا ہے وہ اللہ تک پہنچانے والا ہے اور پر جم جانا اللہ کی طرف سے ضمانت ہے۔

اولئک اصحب ۔۔۔۔۔۔ کانوا یعملون (46 : 14) “ ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ” ۔ اپنے ان اعمال کے بدلے جو دنیا میں وہ کرتے رہے ”۔ یہاں یعملون کا لفظ ربنا اللہ کی توضیح کرتا ہے۔ اور ۔۔۔۔۔ منہاج پر استقامت کے معنی متعین کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا تمہارے اعمال اور تمہاری استقامت کی وجہ سے ہے۔ یعنی “ اللہ ہی ہمارا ہے ” کے منہاج اور اس پر استقامت سے عمل اور مسلسل عمل سامنے آئے اور وہ اس پر جم جائیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین میں اعتقادات اور تصورات محض الفاظ ہی نہیں ہوتے کہ کوئی صرف کلمہ طیبہ کے الفاظ کہہ دے ، بلکہ کلمہ طیبہ ایک طریق زندگی ہے۔ اگر کلمہ محض الفاظ ہی ہوں ایک طرز زندگی نہ بنے تو وہ ارکان اسلام والا کلمہ نہ ہوگا۔ آج لاکھوں لوگ کلمہ طیبہ کی شہادت محض زبانی تو دیتے ہیں مگر یہ کلمہ ان کے ہونٹوں سے آگے نہیں بڑھتا اور یہ کلمہ ان کی زندگی کے اوپر کوئی اثر نہیں ڈالتا ، نہ اس کے اندر کوئی تغیر پیدا کرتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسی طرح جاہلانہ زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح دوست بت برست کرتے ہیں ، جبکہ اپنے ہونٹوں سے وہ دن رات یہ کلمہ پڑھتے رہتے ہیں ، یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں ، ان کی زندگیوں میں اس کا مفہوم نہیں ہوتا۔

لا الٰہ الا اللہ ، یا ربنا اللہ ، اللہ ہی ہمارا رب ہے ، یا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ یہ تو دراصل زندگی گزارنے کا ایک طریقہ اور منہاج ہے۔ یہ مفہوم ہر مسلمان کو اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لینا چاہئے تا کہ وہ پھر اس نظام کو تلاش کرے جس کی طرف ان کلمات میں اشارہ کیا گیا ہے اور وہ اس نظام پر غور کرے اور اسے قائم کرنے کی فکر کرے۔