3

آیت 12 { وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً } ”حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام ٰ کی کتاب موجود ہے ‘ راہنمائی کرنے والی اور رحمت !“ { وَہٰذَا کِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا } ”اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے ‘ عربی زبان میں“ یعنی قرآن مصدق ہے تورات اور انجیل کا ‘ اور قرآن کی یہ تصدیق دو پہلو سے ہے۔ ایک طرف تو قرآن ان کتابوں کی اس لحاظ سے تصدیق کرتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ یہ تصدیق ہمیں قرآن میں جابجا ملتی ہے۔ مثلاً سورة المائدۃ آیت 44 میں فرمایا : { اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌج } کہ ہم نے تورات نازل کی تھی اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا۔ اور پھر سورة المائدۃ میں ہی آگے آیت 46 میں انجیل کی تصدیق ہے : { وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَّنُوْرٌ} کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام ٰ ابن مریم کو انجیل عطا کی ‘ یہ بھی ہدایت اور نور کا منبع ہے۔ چناچہ قرآن ایک تو ان دونوں کتابوں کے منزل ّمن اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے اگرچہ ان دونوں میں تحریف کردی گئی جبکہ اس تصدیق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں تھیں قرآن ان کا مصداق بن کر آیا ہے۔ { لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا } ”تاکہ خبردار کر دے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کی روش اختیار کی“ خبردار اور متنبہ کردینے کی ذمہ داری ہی کی وجہ سے قرآن کو سادہ اور سلیس زبان میں نازل کیا گیا اور سمجھنے کے لیے آسان بنا دیا گیا تاکہ ہر شخص تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔ { وَبُشْرٰی لِلْمُحْسِنِیْنَ } ”اور بشارت بن جائے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے۔“ ”محسنین“ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے درجے سے بتدریج آگے بڑھتے ہوئے ایمان اور پھر احسان کے درجے تک پہنچ جائیں۔