Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Ghafir Ayah 25

40:25
فلما جاءهم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابناء الذين امنوا معه واستحيوا نساءهم وما كيد الكافرين الا في ضلال ٢٥
فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْحَقِّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا۟ ٱقْتُلُوٓا۟ أَبْنَآءَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ وَٱسْتَحْيُوا۟ نِسَآءَهُمْ ۚ وَمَا كَيْدُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ ٢٥
فَلَمَّاﲺ
جَآءَهُمﲻ
بِٱلۡحَقِّﲼ
مِنۡﲽ
عِندِنَاﲾ
قَالُواْﲿ
ٱقۡتُلُوٓاْﳀ
أَبۡنَآءَﳁ
ٱلَّذِينَﳂ
ءَامَنُواْﳃ
مَعَهُۥﳄ
وَٱسۡتَحۡيُواْﳅ
نِسَآءَهُمۡۚﳆﳇ
وَمَاﳈ
كَيۡدُﳉ
ٱلۡكَٰفِرِينَﳊ
إِلَّاﳋ
فِيﳌ
ضَلَٰلٖﳍ
٢٥ﳎ
Then, when he came to them with the truth from Us, they said, “Kill the sons of those who believe with him and keep their women.” But the plotting of the disbelievers was only in vain.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 40:23 to 40:25

پیغمبروں کو عام دلائل کے ساتھ مزید ایسی معجزاتی تائید حاصل رہتی ہے جو ان کے فرستادۂ خدا ہونے کا انتہائی واضح ثبوت ہوتی ہے۔ مگر حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی انسان کےلیے مشکل ترین قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل کے باوجود فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کی نبوت کا اقرار نہیںکیا۔

اس کے بجائے انھوں نے ایک طرف عوام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ موسیٰ کا دعویٰ بے حقیقت ہے اور ان کے معجزے محض جادو کا کرشمہ ہیں۔دوسری طرف انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی تعداد کو گھٹانے کےلیے اپنی سابقہ پالیسی کو مزید شدت کے ساتھ جاری کردیا جائے۔ تاکہ موسیٰ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے اندر اپنے ليے مضبوط بنیاد نہ پاسکیں۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی یہ تدبیر موسیٰ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں کررہے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں کسی کي کوئی تدبیر کبھی کار گر نہیں ہوتی۔