3

آیت نمبر 25

یہی انداز ہمیشہ سب سرکشوں کا ہوتا ہے جب ان سے دلیل وحجت کے ہتھیار ختم ہوتے ہیں تو وہ تشدد کے ہتھیار تھام لیتے ہیں ، جب بھی دلائل کے اعتبار سے وہ ذلیل ہوتے ہیں اور ان کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ حق تو غالب آنے والا ہے کیونکہ اس کی بات صاف ، زور دار ہے۔ واضح اور قابل فہم ہے ، اور دل لگتی اور فطرت کو اپیل کرتی ہے ، جس طرح جادوگروں کی فطرت نے قبول کرلیا ، وہ ایمان لے آئے حالانکہ وہ مقابلے کے لیے لائے گئے تھے۔ انہوں نے حق کو قبول کرکے فرعون کا مقابلہ شروع کردیا حالانکہ وہ بہت بڑا جبار تھا۔ اس پر تبصرہ نہایت برمحل ہے ” کافروں کی چال اکارت گئی “۔ اب فرعون اور ہامان اور قارون کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا :

اقتلوآ۔۔۔ ھم (40: 25) ” جو لوگ ایمان لاکر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان کے لڑکوں کو جیتا چھوڑدو “۔ فرعون نے اس قسم کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے زمانے میں کیا تھا۔ ہو سکتا کہ اس سے پہلے فرمان کے صدور کے بعد یہ ہوا کہ جس فرعون نے یہ حکم جاری کیا تھا وہ مر گیا ہو ، اور اس کا بیٹا اور ولی عہد فرعون مقرر ہوگیا ہو اور جدید عہد میں یہ ظالمانہ فرمان مردہ قانون ہوگیا ہو ، اور حضرت موسیٰ جب آئے اور انہوں نے فرعون کو دعوت دی تو وہ آپ کو جانتا تھا کیونکہ آپ کی تربیت تو شاہی محل میں ہوئی تھی۔ اور یہ جدید فرعون یہ بھی جانتا تھا کہ سابقہ حکومت نے ایک فرعون بنی اسرائیلی کے خلاف جاری کیا تھا کہ ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑو اور مردوں کو قتل کردو ، یوں اس کے حاثیہ نشینوں نے یہ مسورت دیا ہو کہ موسیٰ پر جو لوگ ایمان لائے ہیں ان پر وہی فرمان دوبارہ نافذ کیا جائے ، چاہے وہ جادوگر مصری ہوں یا بنی اسرائیل ہوں یا اور لوگ ہوں جنہوں نے موسیٰ کی دعوت کو قبول کرلیا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرعون وہی ہو جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پالا تھا لیکن اس کے سابقہ فرمان میں قدرے نرمی کردی گئی ہو اور اس قانون کے نفاذ میں شدت نہ رہی ہو اور اب یہاں اس کے مشیروں نے ازسرنو مسورت دیا ہو کہ اس قانون کو صرف ان لوگوں پر نافذ کیا جائے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوں تاکہ ان کو ڈرایا جاسکے۔ رہا فرعون تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رائے اور تھی۔ وہ یہ کہتا تھا کہ موسیٰ تمہارا دین بدل دے گا اور ملک کا امن وامان تباہ ہوجائے گا لہٰذا مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ سے تمہاری جان چھڑادوں۔