Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
38:72
فاذا سويته ونفخت فيه من روحي فقعوا له ساجدين ٧٢
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَـٰجِدِينَ ٧٢
فَإِذَا
سَوَّيۡتُهُۥ
وَنَفَخۡتُ
فِيهِ
مِن
رُّوحِي
فَقَعُواْ
لَهُۥ
سَٰجِدِينَ
٧٢
So when I have fashioned him and had a spirit of My Own ˹creation˺ breathed into him, fall down in prostration to him.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 72 { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ } ”تو جب میں اس کو پوری طرح درست کر دوں“ ”تسویہ“ کے معنی کسی تخلیق کو ہر لحاظ سے درست کر کے اس کی تکمیل کردینے کے ہیں۔ انگریزی میں اسے finishing touch دینا کہا جاتا ہے۔ چناچہ ”تسویہ“ کا مرحلہ بنیادی تخلیق کے بعد آتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الاعلیٰ میں فرمایا گیا : { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی۔ ”آپ ﷺ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی ‘ جس نے تخلیق کیا ‘ پھر تسویہ کیا“۔ سورة الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران اس موضوع پر ان شاء اللہ تفصیل سے گفتگو ہوگی۔ { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ } ”اور میں اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم گرپڑنا اس کے سامنے سجدے میں۔“ یہاں پر رُوْحِیْ میری روح کا لفظ نوٹ کیجیے اور اس نکتے کو ذہن نشین کر لیجیے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مسجودِ ملائک ہونا اس روح ربانی کی بنیاد پر تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم میں پھونکی تھی۔ اس سے قبل نہ تو وہ مسجودِ ملائک تھے ‘ اور نہ ہی ان کا وہ مقام و مرتبہ تھا جو بعد میں اشرف المخلوقات کی حیثیت سے ان کو ملا۔