Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: As-Saffat Ayah 180

37:180
سبحان ربك رب العزة عما يصفون ١٨٠
سُبْحَـٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٨٠
سُبۡحَٰنَﳉ
رَبِّكَﳊ
رَبِّﳋ
ٱلۡعِزَّةِﳌ
عَمَّاﳍ
يَصِفُونَﳎ
١٨٠ﳏ
Glorified is your Lord—the Lord of Honour and Power—above what they claim!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 180{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آپ ﷺ کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“ یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ”صفت“ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } الحشر : 24 ‘ لیکن لفظ ”صفت“ یا وصف کے مادہ سے مشتق کسی لفظ کے استعمال سے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ اس مادہ سے قرآن میں جو بھی الفاظ یصفون وغیرہ استعمال ہوئے ہیں وہ لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے جو اوصاف بیان کر رہے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلندو برتر ہے۔