فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
0%