آدمی کے پیچھے اس کے اعمال ہیں، اور اس کے آگے حساب کتاب کا دن ہے۔ زندگی گویا عمل کی دنیا سے انجام کی دنیا کی طرف سفر ہے۔ یہ بے حد نازک صورتِ حال ہے۔ آدمی کو اس کا واقعی احساس ہو تو وہ کانپ اٹھے۔ مگر آدمی نہ غور کرتاهے اور نہ کوئی نشانی اس کی آنکھ کھولنے والی ثابت ہوتی۔ وہ جھوٹی تاویلوں کے ذریعہ اپنے اعمال کو صحیح ثابت کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ مرجاتاہے۔