3

افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔

یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ ان سے دور بھی نہیں ہے جس طرح قیام قیامت انکو بعید نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے تو غافل لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں

یہ آسمانوں کے اندر جو عملیات وہ دیکھتے ہیں ، بجلیاں اور شہاب ثاقب اور زمین کا دھنس جانا اور زلزلے۔ کسی وقت بھی ان میں سے کوئی عذاب اگر آجائے تو قیامت ہی ہوگی۔

ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب (34: 9) ” حقیقت یہ ہے کہ اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو غلط راہ پر اس قدر دور نہ چلا گیا ہو۔