You are reading a tafsir for the group of verses 34:7 to 34:8
3

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8)

یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔

یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے افتراء باندھتا ہے اور یا پھر یہ شخص مجنون ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے مطابق اس قسم کی باتیں یا تو جھوٹا شخص کرسکتا ہے یا مجنوں کرسکتا ہے۔ اگر مجنون ہے تو یہ کلام ہذیان ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تعجب خیز ہے۔ وہ یہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ حضرت محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا لیکن خود ان کی بات تعجب خیز ہے۔ کیا یہ لوگ پہلی بار پیدا نہیں کیے گئے ؟ انسان کی تخلیق کیا کوئی کم واقعہ ہے۔ پہلی بار ایسی تخلیق ؟ اگر یہ اسے تدبر اور غور سے دیکھیں تو کبھی بھی تعجب نہ کریں۔ لیکن یہ گمراہ ہیں اور ہدایت کی راہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس تعجب پر ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے۔

بل الذین لا یومنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید (34: 8) ” بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ خواب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت بھی ہوسکتا ہے گویا وہ عذاب ان پر واقعہ ہوگیا ہے۔ چونکہ وہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اس لیے اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جس طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں اسی طرح گمراہ بھی ہیں۔ یہ بہت گہری حقیقت ہے اس لیے کہ جس شخص کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی لحاظ سے سخت عذاب اور کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی بےانصافیوں میں نہ انصاف کی امید ہوتی ہے ، نہ عدل کی ، نہ جزائے آخرت کی اور نہ اخروی اجر کی۔ انسانی زندگی میں ایسے واقعات اور حوادث آتے ہیں کہ انسان انہیں صرف اجر اخروی کی خاطر ہی برداشت کرسکتا ہے اور یہ تسلی رکھتا ہے کہ نیکوکار کے لیے اجر حسن ہے اور بدکار کے لئے سزا ہے۔ کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں کہ انسان رضائے الٰہی اور جزائے اخروی کے لیے انہیں برداشت کرتا ہے کیونکہ آخرت میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا برابر ہو اور کسی چٹان کے اندر ہو ، وہاں سے بھی اللہ اس مطلوب ذرے کو جو رائی کے دانے کے برابر ہو ، لے کر آتا ہے اور جو شخص اس تروتازہ اور فرحت بخش اور روشن چراغ سے محروم ہے وہ گویا دائمی عذاب میں ہے۔ اس دنیا میں بھی منکر آخرت ایک مسلسل عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت میں تو وہ اپنے اعمال کی جزا بہرحال پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ انسان کے لیے ایک رحمت ہے ، ایک عظیم نعمت ہے جس کے مستحق اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ، جو حق کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جن کی خواہش ہر وقت یہ ہوتی ہے کہ وہ راہ راست پر گامزن ہوں ۔ راجح بات یہی ہے کہ اس آیت میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گمراہی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔

ان مکذبین کو اب ایک سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی اس گمراہی کی وجہ سے مزید عذاب دنیا ان پر نازل کر دے اور آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دے یا ان کو اس ضلالت کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دے۔ یہ اس نظام کائنات پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام تو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔