3

قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔

رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔

قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ کہو کہ رزق تو اللہ ہی دیتا ہے اور تمہارے امور اور ان کے امور اللہ کے سپرد ہیں۔ تم دونوں میں سے کوئی ایک خواہ مخواہ ضلالت پر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دونوں ہدایت پر ہوں ، یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ لہٰذا ایک فریق ایک راستے پر ہے اور دوسرا دوسرے پر ہے۔

وانا او ایاکم ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (34: 24) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے “۔ بحث و مباحثہ میں یہ نہایت ہی معتدلانہ انداز گفتگو ہے کہ رسول اللہ ﷺ مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم اور تم میں سے ایک فریق ہدایت پر ہے اور دوسرا ضلالت پر ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ فریق کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سامع خود غور و فکر کے بعد متعین کرے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ، بغیر ہٹ دھرمی اور بغیر بحث وجدال اور حجت بازی کے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ تو ایک ہادی اور معلم تھے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو راہ راست دکھانا تھا۔ ان کو لاجواب کرکے ذلیل کرنا مطلوب نہ تھا۔

اس انداز گفتگو سے نہایت معاند ، متکبر ، سرکش اور دست درازی کرنے والے شخص کے دل پر بھی بات کا اثر ہوتا ہے اور کسی شخص کا مقام و مرتبہ راہ ہدایت لینے میں رکاوٹ نہیں۔ اور ایک بلند مقام رکھنے والا بھی سرتسلیم خم کردیتا ہے اور نہایت ہی ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ اسے اطمینان ہوجاتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو خصوصاً ان لوگوں کے گہرے غور کا مستحق ہے جو دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔

اب عقل و خرد کے تاروں پر تیسری ضرب ، نہایت منصفانہ اور عادلانہ انداز گفتگو کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ہر دل کو اس کے اعمال اور ان کے نتائج کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔