3

فاعرضوا فارسلنا ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (16) ” “۔ انہوں نے اللہ کے شکر بجالانے سے منہ موڑ لیا۔ نیک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اللہ کے انعامات میں غلط تصرفات کرنا شروع کر دئیے۔ لہٰذا اللہ نے ان سے وہ خوشحالی چھین لی جس میں وہ زندگی بسر کررہے تھے۔ ان پر اس قدر شدید سیلاب بھیجا جو راستے میں آنے والے پتھروں کو بھی بہا کرلے جا رہا تھا۔ العرم کے معنی پتھر ہیں۔ یوں یہ ڈیم ٹوٹ گیا۔ پانی نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔ یہ گاؤں اور باغات تباہ ہوگئے۔ اور ازسرنو پانیوں کے ذخیرہ کرنے کا انتظام ان سے نہ ہوسکا۔ اس لیے خوشحالی کی جگہ خشک سالی نے لی۔ زمین خشک ہوکر جل گئی اور سرسبز باغات بیرویوں کی جھاڑیون میں بدل گئے اور سرسبز زمین صحرا میں بدل گئی۔

وبدلنھم بجنتھم ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (34: 16) ” اور ان کے پچھلے دو باغوں کے بدلے دو اور باغ انہیں دئیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں “۔ خمط اراک کے درخت کو کہتے ہیں۔ ہر خاردار درخت کو بھی خمط کہتے ہیں۔ اور اٹل ایک درخت ہے جو الفرفاء کے مماثل ہوتا ہے یعنی جھاؤ۔ اور سدر بیری کو کہتے ہیں اور یہ بیری جواب ان کے لیے بہترین پھل رہ گئی تھی یہ بھی قلیل مقدار میں تھی۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%