🎯 Stay on track!
Create My Goal
🎯 Stay on track!
Create My Goal
Sign in
Sign in
You are reading a tafsir for the group of verses 31:1 to 31:5
الم ١ تلك ايات الكتاب الحكيم ٢ هدى ورحمة للمحسنين ٣ الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم بالاخرة هم يوقنون ٤ اولايك على هدى من ربهم واولايك هم المفلحون ٥
الٓمٓ ١ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْحَكِيمِ ٢ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّلْمُحْسِنِينَ ٣ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٤ أُو۟لَـٰٓئِكَ عَلَىٰ هُدًۭى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

درس نمبر 185 تشریح آیات

1 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 19

الم ۔۔۔۔۔۔ واولئک ھم المفلحون (1 – 5)

حروف مقطعات ا۔ ل۔ م سے آغاز ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ آتا ہے۔

تلک آیت الکتب الحکیم (31: 2) ” یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ کتاب الٰہی حروف سے مرکب ہے۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں بھی یہی اشارات موجود ہیں۔ کتاب کو کتاب حکمت کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کا اصل موضوع ہی فلسلفہ و حکمت ہے لہٰذا یہاں اس کتاب کی اس صفت کو لایا گیا کیونکہ اس سورة کے مضامین کے ساتھ اس کی مناسبت ہے اور یہی قرآن کا انداز ہے۔ کتاب کو کتاب حکیم کہہ کر یہ تاثر دیا گیا کہ یہ ایک زندہ کتاب ہے۔ اور یہ ارادتاً ایک ہدف کی بڑھ رہی ہے۔ گویا یہ ایک زندہ شخصیت ہے۔ بہت ہی دانشمند اور اس کی گفتگو میں ایک مقصد ہے۔ اس کا ایک متعیقن ہدف ہے ، اور یہ اس ہدف کی طرف بالارادہ بڑھ رہی ہے۔ اس میں روح ہے ، اس میں زندگی ہے۔ اس میں حرکت ہے ، اور اس کتاب کی ایک ذات اور شخصیت ہے جو متعین ہے۔ یہ محبت کرنے والی ہے اور یہ ہر اس شخص کے ساتھ مکالمہ کرتی ہے جو اس کی صحبت میں بیٹھے۔ جو اس کے سایوں میں زندگی بسر کرے اور وہ اس کی اس کشش کو محسوس کرے جس طرح ایک زندہ دوسرے زندہ کی طرف رکھتا ہے اور جس طرح دوست دوست کی طرف کھینچتا ہے۔

یہ ہے کتاب حکیم ۔ اور اس کی آیات ہدایت اور رحمت ہیں محسنین کے لیے۔ یہ اس کی اصل ماہیت ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور یہ محسنین کے لئے ہمیشہ ہدایت رہتی ہے۔ یہ ان کو ایک متعین منزل مقصود تک پہنچاتی ہے جس طرح ایک زندہ شخص کسی کو راہ دکھاتا ہے مگر کرخت طریقے سے نہیں بالکل الفت اور محبت کے ساتھ نہایت آرام اطمینان کے ساتھ اور اس کی ہدایت یہ ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اور اپنے رب سے رابطہ قائم کرو اور پھر زکوٰۃ ادا کرو ، اہل ایمان کے دل اس کے ذریعے بالم جوڑ کر رکھ دو اور پھر تمام اہل ایمان اللہ کی اس کائنات کے لیے ہمکلام اور مربوط ہوجائیں جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ کتاب وہ اقدار اور وہ حالات پیدا کرتی ہے جس میں تمام انسانوں کا مقام متعین ہو اور وہ اپنی اصل پہچان جان سکیں۔ اس کتاب کے ہدایت یافتہ لوگ اس فطرت سے بھی متعارف ہوں جس فطرت پر انہیں پیدا کیا گیا ہے اور سیدھے ہوں اور ان کے اندر کوئی زیغ اور ٹیڑھ نہ ہو۔

یہ کتاب جن محسنین کے لیے ہدایت ہے وہ کون ہیں ؟

الذین یقیمون ۔۔۔۔۔ ھم یوقنون (31: 4) ” جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں “۔ جب کوئی نماز قائم کرتا ہے ۔ اس کے پورے ارکان کے ساتھ اسے ادا کرتا ہے ، بروقت ادا کرتا ہے اور مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو اس کی حکمت ، اس کا اثر انسانی شعور اور انسانی طرز عمل میں واضح ہو کر سامنے آتا ہے ، اور اس کے ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوجاتا ہے ، جو مطلوب ہے۔ اللہ سے انس پیدا ہوتا ہے اور نماز کے اندر مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے اور زکوٰۃ کا فائدہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو فطری بخل ہے ، اس پر انسان قابو پالیتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کے لیے ایک اجتماعی نظام کی بنیاد ہوتی ہے اور امت کے اندر اجتماعی کفالت کی بنیاد پڑتی ہے۔ اس سوسائٹی میں امیروں اور غریبوں دونوں کے اندر ارتماد ہوتا ہے۔ اطمینان ہوتا ہے اور باہم مودت اور محبت ہوتی ہے۔ اس کے اندر طبقاتی نفرت نہیں ہوتی اور آخرت پر ایمان تو تمام نیکیوں کی اساس ہے۔ اس سے قلب بشری ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ اس کی نظریں عالم آخرت پر ہوتی ہیں اور زمین کی گندگیوں اور زمین کے عارضی سازوسامان کے مقابلے میں اس کی نظریں بلند ہوتی ہیں۔ خفیہ طور پر اور اعلانیہ طور پر انسان یہ دیکھتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور انسان درجہ احسان تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا ” احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو کہ اسے تم دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہ دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے “۔ (بخاری و مسلم ، کتاب الایمان)

یہ لوگ جو ایسی نماز پڑھتے ہیں ، جو اس نیت سے زکوۃ دیتے ہیں۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اولئک علی ۔۔۔۔۔ ھم المفلحون (31: 5) ” یہی لوگ رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ جس نے ہدایت پائی۔ اس نے فلاح پائی۔ وہ ایک روشنی پر چل رہا ہوتا ہے۔ منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ۔ گمراہیوں سے اور فساد سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس کرہ ارض پر اپنے اس سفر پر وہ مطمئن ہوتا ہے ، پھرتا رہتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ ہم سفر ہوتا ہے اور اس کائنات کے ایک جزء کے طور پر اس کے ساتھ ہم آہنگی سے سفر طے کرتا جاتا ہے ، نہایت انس و محبت کے ساتھ۔ ایسے ہی لوگ اس کتاب کی آیات سے راہنمائی پاتے ہیں۔ محسن ، غازی ، زکوٰۃ دینے والے ، آخرت کا یقین رکھنے والے۔ یہ لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔ یہ لوگ ایک فریق ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک فریق اور بھی ہے۔ کیا ہیں اس کے خدوخال ؟

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved