ظَهَرَ
الْفَسَادُ
فِی
الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ
بِمَا
كَسَبَتْ
اَیْدِی
النَّاسِ
لِیُذِیْقَهُمْ
بَعْضَ
الَّذِیْ
عَمِلُوْا
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟
Unheil ist auf dem Festland und im Meer erschienen wegen dessen, was die Hände der Menschen erworben haben, damit Er sie einiges von dem kosten läßt, was sie getan haben, auf daß sie umkehren mögen.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭…
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ہے۔ تری کے
زمین کی اصلاح اللہ تعالٰی کی اطاعت میں مضمر ہے ٭٭…
ممکن ہے «بَرِّ» یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور «بَحْرِ» یعنی تری سے مراد شہر اور دیہات