3

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ “ اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی ۔ ان پر ہدایت کے دریا بہادیئے گئے تھے ۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی ۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے ۔ ویسا ہی انجام ان کا بھی ہوا۔ اس سودے میں انہیں کوئی نفع نہ ہوا اور ہدایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی ۔

آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے ۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی ۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں ۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے ۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھا جارہا ہے ۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے ۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری ، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے ۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں ۔

اس تفصیلی بحث سے ایک طرف تو وہ کردار بھی اچھی طرح ہمارے سامنے آجاتا ہے جو منافقین مدینہ ، فدائیان اسلام کی ایذارسانی ، ان کے اندرانتشار اور بےچینی پھیلانے کے سلسلے میں ادا کررہے تھے ۔ دوسری طرف اسلامی جماعت کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ ہر دور میں ایک منافق ، نظم جماعت کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور اسلامی جماعت میں ان منافقین کی پردہ وری اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کرنے کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے ۔