🎯 Stay on track!
Create My Goal
🎯 Stay on track!
Create My Goal
Sign in
Sign in
واذا لقوا الذين امنوا قالوا امنا واذا خلوا الى شياطينهم قالوا انا معكم انما نحن مستهزيون ١٤
وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَـٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ ١٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 14 وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ج عام یہودی بھی کہتے تھے کہ ہم بھی تو آخر اللہ کو اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ جبکہ منافق تو رسول ﷺ ‘ کو بھی مانتے تھے۔وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا یہاں ”شیاطین“ سے مرادیہود کے علماء بھی ہوسکتے ہیں اور منافقین کے سردار بھی۔ عبداللہ بن ابی منافقین مدینہ کا سردار تھا۔ اگر وہ کبھی انہیں ملامت کرتا کہ معلوم ہوتا ہے تم تو بالکل پوری طرح سے مسلمانوں میں شامل ہی ہوگئے ہو ‘ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم محمد ﷺ کی ہر بات مان رہے ہو ‘ تو اب انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے کہنا پڑتا تھا کہ نہیں نہیں ‘ ہم تو مسلمانوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں ‘ ہم ان سے ذرا تمسخر کر رہے ہیں ‘ ہم آپ ہی کے ساتھ ہیں ‘ آپ فکر نہ کریں۔ منافق تو ہوتا ہی دو رخا ہے۔ ”نفق“ کہتے ہیں سرنگ کو ‘ جس کے دو راستے ہوتے ہیں۔ ”نافقاء“ گوہ کے ِ بل کو کہا جاتا ہے۔ گوہ اپنے بل کے دو منہ رکھتا ہے کہ اگر کتا شکار کے لیے ایک طرف سے داخل ہوجائے تو وہ دوسری طرف سے نکل بھاگے۔ تو منافق بھی ایسا شخص ہے جس کے دو رخ ہوتے ہیں۔ سورة النساء میں منافقین کے بارے میں کہا گیا ہے : مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لاآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ ط آیت 143 یعنی کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ‘ مذبذب ہو کر رہ گئے ہیں۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں۔ لفظ ”شَیْطٰن“ کے بارے میں دو رائیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مادہ ”ش ط ن“ ہے اور دوسری یہ کہ یہ ”ش و ط“ مادہ سے ہے۔ شَطَنَ کے معنی ہیں تَبَعَّدَ یعنی بہت دور ہوگیا۔ پس شیطان سے مراد ہے جو اللہ کی رحمت سے بہت دور ہوگیا۔ جبکہ شاط یَشُوْطُ کے معنی ہیں اِحْتَرَقَ غَضَبًا وَحَسَدًا یعنی کوئی شخص غصے ّ اور حسد کے اندر جل اٹھا۔ اس سے فَعْلَان کے وزن پر ”شیطان“ ہے ‘ یعنی وہ جو حسد اور غضب کی آگ میں جل رہا ہے۔ چناچہ ایک تو شیطان وہ ہے جو جناتّ میں سے ہے ‘ جس کا نام پہلے ”عزازیل“ تھا ‘ اب ہم اسے ابلیس کے نام سے جانتے ہیں۔ پھر یہ کہ دنیا میں جو بھی اس کے پیروکار ہیں اور اس کے مشن میں شریک کار ہیں ‘ خواہ انسانوں میں سے ہوں یا جنوں میں سے ‘ وہ بھی شیاطین ہیں۔ اسی طرح اہل کفر اور اہل زیغ کے جو بڑے بڑے سردار ہوتے ہیں ان کو بھی شیاطین سے تعبیر کیا گیا۔ آیت زیر مطالعہ میں شیاطین سے یہی سردار مراد ہیں۔ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِءُ ‘ وْنَ جب وہ علیحدگی میں اپنے شیطانوں یعنی سرداروں سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں ‘ ان مسلمانوں کو تو ہم بیوقوف بنا رہے ہیں ‘ ان سے استہزاء اور تمسخر کر رہے ہیں جو ان کے سامنے ”اٰمَنَّا“ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔

Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved