Masuk
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
28:84
من جاء بالحسنة فله خير منها ومن جاء بالسيية فلا يجزى الذين عملوا السييات الا ما كانوا يعملون ٨٤
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌۭ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى ٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ٨٤
مَنْ
جَآءَ
بِالْحَسَنَةِ
فَلَهٗ
خَیْرٌ
مِّنْهَا ۚ
وَمَنْ
جَآءَ
بِالسَّیِّئَةِ
فَلَا
یُجْزَی
الَّذِیْنَ
عَمِلُوا
السَّیِّاٰتِ
اِلَّا
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
Barang siapa yang datang dengan (membawa) kebaikan, maka dia akan mendapat (pahala) yang lebih baik daripada kebaikannya itu; dan barang siapa datang dengan (membawa) kejahatan, maka orang-orang yang telah mengerjakan kejahatan itu hanya diberi balasan (seimbang) dengan apa yang dahulu mereka kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 28:83 hingga 28:84
جنت اور آخرت ٭٭

فرماتا ہے کہ ” جنت اور آخرت کی نعمت صرف انہی کو ملے گی جن کے دل خوف الٰہی سے بھرے ہوئے ہوں اور دنیا کی زندگی تواضع فروتنی عاجزی اور اخلاق کے ساتھ گزاردیں۔ کسی پر اپنے آپ کو اونچا اور بڑا نہ سمجھیں ادھر ادھر فساد نہ پھیلائیں سرکشی اور برائی نہ کریں۔ کسی کا مال ناحق نہ ماریں اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانیاں نہ کریں “۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری تو یہ چاہت ہے کہ میری چادر بھی اچھی ہو میری جوتی بھی اچھی ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں یہ تو خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:147] ‏

پھر فرمایا جو ہمارے پاس نیکی لائے گا وہ بہت سی نیکیوں کا ثواب پائے گا۔ یہ مقام فضل ہے اور برائی کا بدلہ صرف اسی کے مطابق سزا ہے۔ یہ مقام عدل ہے اور آیت میں ہے «وَمَنْ جَاءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» [27-النمل:90] ‏، ” جو برائی لے کر آئے گا وہ اندھے منہ آگ میں جائے گا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے “۔

صفحہ نمبر6644