You are reading a tafsir for the group of verses 28:79 to 28:80
3

فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔

قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے “۔ ہر دور میں دنیا کی زیب وزینت بعض لوگوں کو مقصد بن جاتی ہے اور جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں ان کی آنکھیں اسے دیکھ کرچکا چوند ہوجاتی ہے۔ اور اس قسم کے لوگ اس چیز کی طرف بلند نظریں نہیں رکھتے جو اس دنیا سے اعلیٰ اور زیادہ قیمتی ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس زیب وزینت کو خریدنے والے نے کس قدر زیادہ قیمت ادا کرکے خریدا ہے۔ اور یہ دنیا کا سازوسامان اس شخص نے کیا کیا ذرائع کام میں لاکر حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے مال ، مصب اور عزت کی کیا کیا قربانیاں دی گئی ہیں ۔ چناچہ سطحی نگاہ رکھنے والے ایسے مظاہر پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس طرح مکھیاں ہر میٹھی چیز پر جمع ہوجاتی ہیں۔ اور اس پر گرتی ہیں اور ایسے لوگ جب اہل ثروت کو دیکھتے ہیں تو ان کے منہ میں پانی آجاتا ہے لیکن ان کی نظر اس بات پر نہیں ہوتی کہ یہ دولت اور زیب وزینت جمع کرنے والے نے بہت مہنگی قیمت ادا کی ، کن کن گندگیوں سے ہو کر گزرا ہے اور کیا کیا خبس ذرائع استعمال کیے ہیں۔

اور جن لوگوں کا رابطہ اللہ سے ہوتا ہے اور وہ اعلیٰ اقدار کو اہمیت دیتے ہیں اور دولت اور دنیا کی زیب وزینت سے بڑھ کر ان کی نظروں میں مزید اعلیٰ قدریں بھی ہوتی ہیں۔ اپنی شخصیت کے اعتبار سے بند ہوتے ہیں اور ان کا دماغ اس قدر اونچا ہوتا ہے کہ وہ زمین کی قدروں کے سامنے کسی مالدار کے سامنے نہیں جھکتے۔ یہ لوگ ہیں جن کو حقیقی علم دیا گیا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسانی زندگی کو سیدھا رکھتا ہے۔

وقال الذین اوتو ۔۔۔۔۔۔ الا الصبرون (28: 80) ” مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے حال پر ، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو “۔ اللہ کے ہاں جو درجہ ہے وہ اس زینت سے بہتر ہے ، اللہ کے خزانے قارون کے خزانوں سے زیادہ ہیں اور یہ شعور اعلیٰ قدروں کی بابت صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو صبر کرنے والے ہوں ، جو دوسروں کے اعلیٰ معیار حیات کو دیکھ کر متاثر نہیں ہوتے۔ اور زندگی کے تمام فتنوں اور رعنائیوں کے مقابلے میں اپنے مقام پر جمے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کا شعور یہ ہوتا ہے کہ آخرت کا اجر ، اللہ کی رضا مندی بہت قیمتی سامان ہے تو ان کا درجہ اور بلند ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کے سازوسامان سے بلند ہوجاتے ہیں اور ان کی نظریں ثواب آخرت کے اعلیٰ افق پر ہوتی ہیں۔

جب زیب وزینت کا یہ فتنہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، اور لوگ اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتے بلکہ اس سے شکست کھا کر اس پر

ٹوٹ پڑتے ہیں تو اب دست قدرت کی طرف سے براہ راست مداخلت کا وقت آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضعیف الارادہ لوگوں کو اس کے جال میں شکار ہونے سے بچانے کے لیے اس فتنے کو پاش پاش کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیب وزینت کا یہ غرور ختم کردیا جاتا ہے۔ اور عبرتناک منظر میں ایک فیصلہ کن گرفت کی جھلک پیش کرتا ہے :

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%