You are reading a tafsir for the group of verses 28:74 to 28:75
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75)

قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے تھے ۔ اس وقت ان کا نہ کوئی شریک ہوگا اور نہ اس شرک پر کوئی دلیل ہوگی۔ اور نہ وہ دنیا کی طرف ہٹ دھرمی کرسکیں گے۔ اور نہ کوئی مکالمہ اور دلیل پیش کرسکیں گے۔

فعلموا ان الحق للہ (28: 75) ” ان کو معلوم ہوگا کہ حق اللہ کی طرف ہے “۔ اور ایسا حق اور سچائی اللہ کی طرف ہوگی جس میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔

وضل عنھم ما کانوا یفترون (28: 75) ” اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے “۔ یعنی ارتکاب شرک ، شرکاء۔ نہ شرکاء ان کو دیکھیں گے اور نہ یہ شرکاء کو پا سکیں گے۔ حالانکہ اس مکالمے اور مناظرے کے وقت برہان کی ضرورت تھی۔

یہاں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے پر تبصرہ ختم ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں انسانوں کے دل و دماغ کو ایک وسیع بنیاد کی سیرکرائی گئی۔ دنیا کی بھی ، آخرت کی بھی ، انفس انسانی کے نشیب و فراز میں بھی اسے پھرایا گیا ، اور اس کائنات کی وسعتوں میں بھی ، سابقہ مکذبین کے کھنڈرات میں بھی اور اس کائنات کے سنن الہیہ میں بھی۔ اور یہ تمام سورت کے اصل مقاصد اور اس کے قصوں کے مضمون کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رہی۔ اب ہم سورت کے دوسرے قصے کی طرف آتے ہیں۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%