تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Bayan ul Quran التفسير: القصص آية 11

١١:٢٨
وقالت لاخته قصيه فبصرت به عن جنب وهم لا يشعرون ١١
وَقَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍۢ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١١
وَقَالَتۡﲝ
لِأُخۡتِهِۦﲞ
قُصِّيهِۖﲟﲠ
فَبَصُرَتۡﲡ
بِهِۦﲢ
عَنﲣ
جُنُبٖﲤ
وَهُمۡﲥ
لَاﲦ
يَشۡعُرُونَﲧ
١١ﲨ
وقالت أم موسى لأخته حين ألقته في اليم: اتَّبِعي أثر موسى كيف يُصْنَع به؟ فتتبعت أثره فأبصرته عن بُعْد، وقوم فرعون لا يعرفون أنها أخته، وأنها تتبع خبره.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن اپنی والدہ کے کہنے پر دریا کے کنارے کنارے صندوق پر دھیان رکھے اس انداز سے چلتی رہی جیسے صندوق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ اس طرح وہ بچے کے پیچھے پیچھے بڑی ہوشیاری سے فرعون کے محل میں پہنچ گئی۔ لیکن اس نے اپنے انداز سے وہاں بھی یہی ظاہر کیا جیسے وہ ایک راہ چلتی بچی ہے جو دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو دیکھنے کے لیے ادھر تک پہنچ گئی ہے اور یوں وہاں کسی کو اس کی اصل منصوبہ بندی کے بارے میں گمان تک نہ ہوا۔