You are reading a tafsir for the group of verses 23:51 to 23:52
3

یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52)

یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟

کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔

پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو اچھے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں۔ رسول لوگوں کے اعمال کے لیے ضابطہ متعین کرتے ہیں ، اعمال کے مقاصدمتعین کرتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعہ وہ عالم بالا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔

رسولوں کا یہ کام نہیں کہ وہ بشریت سے پاک ہوجائیں بلکہ ان کا مقاصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بشریت کو سر بلند کردیں۔ اس کے لیے بلند افق اور بلند مقاصد مقرر کردیں۔ اللہ کی یہی خواہش ہے کہ دنیا میں انسان صالح ، پاک اور برگزیدہ ہوں اور رسول ان کے قائد ہوں اور انسانوں کو بلندیوں تک پہنچائیں اور آخرت میں اللہ ہی ہے جو اپنے نہایت ہی باریک پیمانے سے ان کی قدرو قیمت مقرر کرے گا۔

انی بما تعلمون علیم (23 : 51) ” تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، میں اسے خوب جانتا ہوں “ ۔ یہاں زمانے کی دوریوں کو مٹادیا جاتا ہے اور مسافت کی دوریاں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ پیغام ایک ہے جسے یہ رسول لے کر آئے۔

ان کا مزاج ایک ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہیں اور تمام رسولوں کا رخ ایک ہی طرف ہے۔

وان فاتقون (23 : 52) ” اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں بس مجھ سے ہی ڈرو “۔