You are reading a tafsir for the group of verses 21:98 to 21:106
3

کائنات کا موجودہ پھیلاؤ امتحان والی دنیا بنانے کے لیے تھا۔ اس کے بعد جب انجام والی دنیا بنانے کا وقت آئے گا تو خدا اس عالم کو سمیٹ دے گا اور غالباً اسی مادہ سے دوسرا عالم بنائے گا جو انجام والے مقاصد کے حسبِ حال ہو۔ ایک دنیا کا وجود میں آنا۔ یہی اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ دوسری دنیا بھی وجود میں لائی جاسکتی ہے۔

موجودہ دنیامیں اکثر برے لوگ بڑائی کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر یہ صرف امتحان کی مدت تک کے لیے ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور ابدی طورپر خدا کی معیاری دنیا بنائی جائے گی تو وہاں ہر قسم کی عزت اور راحت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو موجودہ امتحانی دور میں خدا کے سچے بندے ثابت ہوئے تھے۔ یہ بات موجودہ زبور میں بھی تفصیل سے موجود ہے۔ اس کے چند الفاظ یہ ہیں

اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔ کیوں کہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے، صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیںگے (زبور، 37:29 )

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%