Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Bayan ul Quran Tafsir: Taha Ayah 96

20:96
قال بصرت بما لم يبصروا به فقبضت قبضة من اثر الرسول فنبذتها وكذالك سولت لي نفسي ٩٦
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا۟ بِهِۦ فَقَبَضْتُ قَبْضَةًۭ مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِى نَفْسِى ٩٦
قَالَﲞ
بَصُرۡتُﲟ
بِمَاﲠ
لَمۡﲡ
يَبۡصُرُواْﲢ
بِهِۦﲣ
فَقَبَضۡتُﲤ
قَبۡضَةٗﲥ
مِّنۡﲦ
أَثَرِﲧ
ٱلرَّسُولِﲨ
فَنَبَذۡتُهَاﲩ
وَكَذَٰلِكَﲪ
سَوَّلَتۡﲫ
لِيﲬ
نَفۡسِيﲭ
٩٦ﲮ
He said, “I saw what they did not see, so I took a handful ˹of dust˺ from the hoof-prints of ˹the horse of˺ the messenger-angel ˹Gabriel˺ then cast it ˹on the moulded calf˺. This is what my lower-self tempted me into.”1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ”رسول سے مراد یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو سامری نے انہیں دیکھ لیا۔ سامری چونکہ راہب تھا ‘ وہ روحانی اور نفسیاتی نوعیت کے مجاہدے بھی کرتا رہتا تھا۔ اس لیے حضرت جبرائیل کسی اور کو تو نظر نہ آئے مگر اسے نظر آگئے۔ زمین پر جہاں آپ علیہ السلام کا قدم پڑ رہا تھا وہاں سے اس نے کچھ مٹی اٹھا لی۔ یہی مٹی اس نے اس بھٹی میں ڈال دی جس میں وہ بچھڑا تیار کرنے کے لیے زیورات کو پگھلا رہا تھا۔ یوں حضرت روح الامین علیہ السلام کے قدموں کی مٹی کی تاثیر سے اس بچھڑے سے وہ آواز آنے لگی۔ یہ گویا اس معاملے کے بارے میں سامری کی وضاحت ہے۔