Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Taha Ayah 21

20:21
قال خذها ولا تخف سنعيدها سيرتها الاولى ٢١
قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلْأُولَىٰ ٢١
قَالَﲆ
خُذۡهَاﲇ
وَلَاﲈ
تَخَفۡۖﲉﲊ
سَنُعِيدُهَاﲋ
سِيرَتَهَاﲌ
ٱلۡأُولَىٰﲍ
٢١ﲎ
Allah said, “Take it, and have no fear. We will return it to its former state.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 20:17 to 20:21

’’تمھارے ہاتھ میں کیا ہے‘‘— یہ سوال حضرت موسیٰ کے شعور کو زندہ کرنے کے لیے تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ تاکہ اگلے لمحہ جب وہ خدا کی قدرت سے سانپ بن جائے تو وہ پوری طرح اس کی قدروقیمت کا احساس کرسکیں۔

حضرت موسیٰ کی لکڑی کا سانپ بن جانا ویسا ہی ایک انوکھا واقعہ تھا جیسا مٹی اور پانی کا لکڑی بن جانا۔ وہ سب کچھ جو ہم زمین پر دیکھ رہے ہیں وہ سب ایک چیز سے دوسری چیز میں تبدیل ہوجانے کا ہی دوسرا نام ہے— گیس کا پانی میں تبدیل ہونا، مٹی کا درخت میں تبدیل ہونا، وغیرہ۔ عام حالات میں تبدیلی کا یہ عمل تدریجی طورپر ہوتا ہے۔ اس لیے انسان اس کو محسوس نہیں کر پاتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی نے دفعۃً سانپ کی صورت اختیار کرلی اس لیے وہ عجیب معلوم ہونے لگی۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے یا ہورہا ہے وہ سب کا سب خدا کا معجزہ ہے۔ خواہ وہ زمین سے لکڑی کا نکلنا ہو یا لکڑی کا سانپ بن جانا۔ پیغمبروں کے ذریعہ ’’غیر معمولی‘‘ معجزہ صرف اس لیے دکھایا جاتا ہے تاکہ آدمی ’’معمولی‘‘ معجزات کو دیکھنے کے قابل ہوجائے۔