وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۱۲۴:۲۰
ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنكا ونحشره يوم القيامة اعمى ١٢٤
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةًۭ ضَنكًۭا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ ١٢٤
وَمَنۡ
أَعۡرَضَ
عَن
ذِكۡرِي
فَإِنَّ
لَهُۥ
مَعِيشَةٗ
ضَنكٗا
وَنَحۡشُرُهُۥ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
أَعۡمَىٰ
١٢٤
و کسی‌که از یاد من روی گردان شود، پس بی‌گمان زندگانی (سخت و) تنگی خواهد داشت، و روز قیامت او را نابینا بر انگیزیم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 20:123 تا 20:127

خدانے آدم اور ابلیس دونوں کو زمین پر بسایا۔ اس نے ابتدا ہی میں یہ تنبیہ کردی کہ قیامت تک تم دونوں کے درمیان ایک دوسرے سےمقابلہ جاری رہے گا۔ ابلیس انسانی نسل کو بہکانے میں اپنی ساری کوشش لگا دے گا۔ اس کے جواب میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنا سب سے بڑا دشمن ابلیس کو سمجھے اور اس کے وسوسوں سے آخری حد تک دور رہنے کی کوشش کرے۔

انسان کی مزید ہدایت کے لیے خدا نے یہ انتظام کیا کہ مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے جو انسان کی قابل فہم زبان میں اس کو زندگی کی حقیقت سے باخبر کرتے رہے۔اب انسان کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ پیغمبر کی ہدایت کو مانتا ہے یا نہیں مانتا۔ جو شخص اس کو مانے گا اس کو دوبارہ جنت کی راحت سے بھری ہوئی زندگی دے دی جائے گی۔ اور جو شخص نہیں مانے گا اس کی زندگی سخت ترین زندگی ہوگی جس سے وہ کبھی نکل نہ سکے گا۔

ہدایت سے اعراض کرنے والے لوگ آخرت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ دونوں آنکھوں سے اندھے ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو آنکھیں اس لیے دی گئی تھیں کہ وہ خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر اسے پہچانیں مگر ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے سامنے خدا کی نشانیاں آئیں اور انھوں نے ان کو نہیں پہچانا۔ اس طرح انھوں نے ثابت کیا کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ پھر خدا فرمائے گا کہ ایسے اندھوں کو آنکھ دینے کی کیا ضرورت۔