Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Taha 20:124

20:124
ومن اعرض عن ذكري فان له معيشة ضنكا ونحشره يوم القيامة اعمى ١٢٤
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةًۭ ضَنكًۭا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ ١٢٤
وَمَنۡ
أَعۡرَضَ
عَن
ذِكۡرِي
فَإِنَّ
لَهُۥ
مَعِيشَةٗ
ضَنكٗا
وَنَحۡشُرُهُۥ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
أَعۡمَىٰ
١٢٤
Benim Kitap'ımdan yüz çeviren bilsin ki onun dar bir geçimi olur ve kıyamet günü de onu kör olarak haşrederiz.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (02 : 321) ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ “ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔

غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔

ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (02 : 321) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔