Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tafsir: Tá-Há 20:115

20:115
ولقد عهدنا الى ادم من قبل فنسي ولم نجد له عزما ١١٥
وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًۭا ١١٥
وَلَقَدۡ
عَهِدۡنَآ
إِلَىٰٓ
ءَادَمَ
مِن
قَبۡلُ
فَنَسِيَ
وَلَمۡ
نَجِدۡ
لَهُۥ
عَزۡمٗا
١١٥
Ya antes había tomado un compromiso de Adán [de no prestarse a los susurros del demonio], pero lo olvidó [y comió del árbol prohibido], no tuvo una resolución firme.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith

آدم (علیہ السلام) کو حکم یہ تھا کہ وہ جنت کا ہر پھل کھائیں مگر ایک خاص درخت کا پھل نہ کھائیں۔ انسان کی تربیت اور اس کی قوت ارادی کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بعض چیزوں کی ممانعت کردی جائے تاکہ اس کی شخصیت پختہ ہو۔ یہ انسانی خواہشات اور مادی میلانات پر وہ کنٹرول کرسکے تاکہ وہ جب روحانی ترقی کے لئے اپنی ضروریات مادی کو کم کرنا چاہے تو کم کرسکے۔ وہ مرغوبات اور خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔ یہ وہ معیار ہے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے وہ ایسی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر ضبط کیا ہے۔ ان کے مرغوبات کے استعمال میں اعتدال ہوتا ہے اور خواہشات سے وہ بلند رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جب کوئی قوم بندہ مرغوبات اور دلدادہ لذات بنی ہے ، وہ روحانی اعتبار سے گر کر حیوانی درجہ تک جا پہنچی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو اس آزمائش میں ڈالا کیونکہ اس کو منصب خلافت ارضی کے لے تیار کرنا تھا کیونکہ یہاں انہی انسانوں نے کامیاب زندگی بسر کرنی تھی جو مضبوط قوت ارادی کے مالک ہوں۔ وہ لوگ جو شیطانی چمک دمک اور شیطانی وسواس اور مرغوبات کے حصول اور فراوانی کے مقابلے میں ضبط نفس کرسکتے ہیں۔ یہ تھا انسان کا ، پہلے انسان کا پہلا تجربہ۔ اب نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔

فنسی ولم ندلہ عزماً (02 : 511) ” وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ “