وَالَّذِیْنَ
یُتَوَفَّوْنَ
مِنْكُمْ
وَیَذَرُوْنَ
اَزْوَاجًا ۖۚ
وَّصِیَّةً
لِّاَزْوَاجِهِمْ
مَّتَاعًا
اِلَی
الْحَوْلِ
غَیْرَ
اِخْرَاجٍ ۚ
فَاِنْ
خَرَجْنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْكُمْ
فِیْ
مَا
فَعَلْنَ
فِیْۤ
اَنْفُسِهِنَّ
مِنْ
مَّعْرُوْفٍ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
And those who are taken in death among you and leave wives behind - for their wives is a bequest: maintenance for one year without turning [them] out. But if they leave [of their own accord], then there is no blame upon you for what they do with themselves in an acceptable way.1 And Allāh is Exalted in Might and Wise.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بیوگان کے قیام کا مسئلہ ٭٭…
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہو چکی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے تو پھر آپ رضی اللہ عنہ اسے قرآن کریم میں کیو
بیوگان کے قیام کا مسئلہ ٭٭…
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہو چکی ہے، صحیح بخاری شریف