3

آیت 9 اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ یہ آیت مبارکہ بہت اہم ہے۔ جہاں تک اس کے پہلے حصے کا تعلق ہے تو یہ حکم تورات پر بھی صادق آتا ہے اور انجیل پر بھی۔ یعنی یہ دونوں کتابیں بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ قرآن میں اس کی بار بار تصدیق بھی کی گئی ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 44 میں تورات کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق اس طرح کی گئی ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ۔ سورة آل عمران کی آیت 3 میں ان دونوں کتابوں کا ذکر فرمایا گیا : وَاَنْزَلَ التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ ۔ لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں جو حکم آیا ہے وہ صرف اور صرف قرآن کی شان ہے۔ اس سے پہلے کسی الہامی کتاب یا صحیفۂ آسمانی کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابقہ کتب کی ہدایات وتعلیمات حتمی اور ابدی نہیں تھیں۔ وہ تو گویا عبوری ادوار کے لیے وقتی اور عارضی ہدایات تھیں اور اس لحاظ سے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اب جبکہ ہدایت کامل ہوگئی تو اسے تا ابد محفوظ کردیا گیا۔یہ آیت ختم نبوت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے۔ اگر سورة المائدۃ کی آیت 3 کے مطابق قرآن میں ہدایت درجہ کاملیت تک پہنچ گئی اور آیت زیر نظر کے مطابق وہ ابدی طور پر محفوظ بھی ہوگئی تو وحی کے جاری رہنے کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔ چناچہ قادیانیوں کے پاس ان دونوں قرآنی حقائق کو تسلیم کرلینے کے بعد اور ان کے لیے انہیں تسلیم کیے بغیر چارا بھی نہیں وحی کے جاری رہنے کے جواز کی کوئی عقلی و منطقی دلیل باقی نہیں رہ جاتی۔ وحی کی ضرورت ان دونوں میں سے کسی ایک صورت میں ہی ہوسکتی ہے کہ یا تو ابھی ہدایت کامل نہیں ہوئی تھی اور اس کی تکمیل کے لیے وحی کے تسلسل کی ضرورت تھی۔ یا پھر ہدایت کامل تو ہوگئی تھی مگر بعد میں غیر محفوظ ہوگئی یا گم ہوگئی اور اس وجہ سے پیدا ہوجانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے وحی کی ضرورت تھی۔ بہر حال اگر ان دونوں میں سے کوئی صورت بھی درپیش نہیں ہے تو سلسلہ وحی کے جاری رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ معاذ اللہ عبث کام نہیں کرتا کہ ضرورت کے بغیر ہی سلسلۂ وحی کو جاری کیے رکھے۔یہاں دو دفعہ زیر نظر آیت سے قبل آیت 6 میں بھی قرآن حکیم کے لیے ”الذکر“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورة ”ن“ کی آخری دو آیات میں بھی قرآن حکیم کے لیے یہ لفظ آیا ہے۔ ذکر کا مفہوم یاددہانی ہے۔ قرآنی فلسفے کے مطابق قرآن مجید کا ”الذکر“ ہونا اس مفہوم میں ہے کہ ایمانی حقائق خصوصی طور پر اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا علم انسانی روح کے اندر موجود ہے ‘ مگر اس علم پر ذہول بھول اور غفلت کا پردہ طاری ہوجاتا ہے۔ جیسے ایک وقت میں انسان کو ایک چیز یاد ہوتی ہے مگر بعد میں یاد نہیں رہتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کے بارے میں معلومات اس کی یادداشت کے تہہ خانے میں دب جاتی ہیں۔ پھر بعد میں کسی وقت جونہی کوئی چیز ان معلومات سے متعلق سامنے آتی ہے تو انسان کے ذہن میں وہ بھولی بسری معلومات پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں۔ اس طرح ذہن میں موجود معلومات کو پھر سے تازہ کرنے والی چیز گویا یاد دہانی reminder کا کام کرتی ہے۔ مثلاً ایک دوست سے آپ کی سالہا سال سے ملاقات نہیں ہوئی اور اس کا خیال بھی کبھی نہیں آیا ‘ مگر ایک دن اچانک اس کا دیا ہوا ایک قلم یا رومال سامنے آنے سے اس دوست کی یاد یکدم ذہن میں تازہ ہوگئی۔ اس قلم یا رومال کی حیثیت گویا ایک نشانی یا آیت کی ہے جس سے آپ کے ذہن میں ایک بھولی بسری یاد پھر سے تازہ ہوگئی۔ اسی طرح اللہ کی ذات کا علم انسانی روح میں خفتہ dormant حالت میں موجود ہے۔ اس علم کو پھر سے جگا کر تازہ کرنے اور اس پر پڑے ہوئے ذہول اور نسیان کے پردوں کو ہٹانے کے لیے آیات آفاقیہ ‘ آیات انفسیہ اور آیات قرآنیہ گویا یاد دہانی کا کام دیتی ہیں اور اللہ کی یاد کو انسان کے ذہن میں تازہ کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے قرآن کو الذکر یاد دہانی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔