3

آیت نمبر 22

ہواؤں کے دوش پر کیا بار ہوتا ہے ؟ پانی جس طرح اللہ ناقہ کو حاملہ کرتا ہے اور پھر بادل جو حامل ماء ہوتے ہیں آسمانوں سے برس پڑتے ہیں اور یوں ہم تمہیں پانی پلاتے ہیں۔ کیا بارش کے یہ خزانے تمہاری تحویل میں ہیں ؟ کہ جب ضرورت ہو برسالو ، بلکہ یہ خزانے اللہ کی تحویل میں ہیں اور اللہ ایک معلوم مقدار کے مطابق برساتا ہے۔

یہ ہوائیں فضائی عوام کے مطابق چلتی ہیں اور ان فضائی ضوابط کے مطابق ان میں پانی ہوتا ہے اور برستا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ان فضاؤں کو کس نے پیدا کیا اور ہواؤں اور بارشوں کے یہ عوامل اور ضوابط کس نے بنائے ؟ یہ یقیناً خالق کائنات کا کام ہے لہٰذا یہ تمام عوامل و اسباب اللہ کے ناموس کلی اور سپر کمپیوٹر کے مطابق ہیں۔

وان من ۔۔۔۔۔۔ بقدر معلوم (15 : 21) “ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں ”۔ اس آیت کا انداز تعبیر ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ ہر حرکت یہاں تک کہ سیرابی کو بھی اللہ طرف منسوب کیا گیا۔

فاسقینکموہ (15 : 22) “ ہم نے اسے تمہیں پلایا ”۔ حالانکہ مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تمہاری تخلیق یوں بنائی ہے کہ تم پانی کی طلب کرتے ہو ، اور پانی کو یوں بنایا کہ وہ تماری طلب کو پورا کرتا ہے اور اس طلب اور رسد کو ہم نے متوازن بنایا۔ لیکن انداز تعبیر ایسا ہے جو موقع و مقام کلام کے مطابق ہے۔ ہر فعل اور ہر حرکت کی نسبت اللہ کی ہے کیونکہ تصور یہ دینا مقصود ہے کہ اس کائنات کی ہر حرکت اور ہر واقعہ اللہ کے ارادے اور حکم سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ آسمانوں کے لئے اللہ کا جو تکوینی قانون ہے ، وہی تمام مخلوقات کے لئے بھی ہے۔ پہلی آیت میں مکذبین کے بارے میں سنت الہٰیہ کا بیان تھا ، اس دوسرے ٹکڑے میں آسمان و زمین اور کائنات کے بارے میں سنت الٰہیہ کا بیان ہے اور اس فضا میں ہواؤں اور پانیوں کا نظام بھی اسی سنت کے مطابق ہے۔ ان میں سے کوئی امر بھی سنت الٰہیہ کے سوا یا باہر وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ تمام امور اس ناموس اکبر کے مطابق چلتے ہیں جو اس کائنات میں جاری ہے اور جسے قرآن حق کہتا ہے : اب اس مضمون کا خاتمہ یوں ہوتا ہے کہ موت وحیات بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ تمام چیزوں کو زندگی دینا ، مارنا اور پھر سے اٹھانا اور حساب و کتاب اللہ کے اختیار میں ہے۔