3

آیت 17 وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ یہ گویا ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے کہ ان ستاروں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں انسان کی جدید تحقیق ماضی قریب میں ہوئی ہے ‘ لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں انسانی علم بہت محدود ہے۔ وائرس اور بیکٹیریا کے بارے میں کچھ ہی عرصہ پہلے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ بھی کوئی مخلوق ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں یقیناً بہت سے ایسے حقائق ہوں گے جن کے بارے میں اب بھی انسان کچھ نہیں جانتا۔ بہرحال اب تک جتنی مخلوقات کے بارے میں ہمیں علم ہے ان میں صرف تین قسم کی مخلوقات ایسی ہیں جن میں خود شعوری self consciousness پائی جاتی ہے ‘ یعنی ملائکہ جنات اور انسان۔ ان میں سے پہلے ملائکہ کو پیدا کیا گیا پھر جنات کو اور پھر انسان کو۔ گویا انسان اس کائنات کی تخلیق کے اعتبار سے Recent دور کی مخلوق ہے۔ البتہ انسانوں کی ارواح اسی دور میں پیدا کی گئیں جب ملائکہ کو پیدا کیا گیا۔ بہر حال خود شعوری صرف ان تین قسم کی مخلوقات میں ہی پائی جاتی ہے باقی جو بھی مخلوقات اس کائنات میں موجود ہیں چاہے وہ خشکی اور سمندر کے جانور ہوں یا ہوا میں اڑنے والے پرندے ان میں شعور تو ہے مگر خود شعوری نہیں ہے۔ جنات کی تخلیق چونکہ آگ سے ہوئی ہے لہٰذا ان کے اندر مخفی قوت potential energy انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ میرا گمان ہے کہ جنات کو سورج کی آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور اس لحاظ سے انہیں پورے نظام شمسی کے دائرے میں آمد و رفت کی طاقت اور استعداد حاصل ہے اور اس کے لیے انہیں کسی راکٹ یا مشینی ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنی اسی استعداد سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عالم بالا سے اللہ تعالیٰ کے احکام اور تدبیرات کی ترسیل کے دوران ملائکہ سے کچھ خبریں اچکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر وہ ایسی خبریں انسانوں میں اپنے دوست دار عامل اور کاہن لوگوں کو بتاتے ہیں تاکہ وہ اپنی دکانیں چمکا سکیں۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے ایوان صدر سے احکام کی ترسیل و تقسیم کے دوران کوئی شخص متعلقہ اہلکاروں سے ان احکام کے بارے میں خبریں حاصل کر کے قبل ازوقت ان لوگوں تک پہنچا دے جو ان کے ذریعے سے اپنی دکانیں چمکانا چاہتے ہیں۔ جنات کو نظام شمسی کی حدود پھلانگنے سے روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں میزائل نصب کر رکھے ہیں۔ جب بھی کوئی جن اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر میزائل پھینکا جاتا ہے جسے ہم شہاب ثاقب کہتے ہیں۔ اس پورے نظام پر ہم ”کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ کے اصول کے تحت یقین رکھتے ہیں جو ہمارے ایمان بالغیب کا حصہ ہے۔ بہر حال سائنسی ترقی کے سبب کائنات کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات اور ایجادات کے ساتھ بھی ان قرآنی معلومات کا کسی نہ کسی حد تک تطابق corroboration موجود ہے۔