Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tazkir ul Quran Tafsir: Ar-Ra'd Ayah 38

13:38
ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية وما كان لرسول ان ياتي باية الا باذن الله لكل اجل كتاب ٣٨
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًۭا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَٰجًۭا وَذُرِّيَّةًۭ ۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍۢ كِتَابٌۭ ٣٨
وَلَقَدۡﲍ
أَرۡسَلۡنَاﲎ
رُسُلٗاﲏ
مِّنﲐ
قَبۡلِكَﲑ
وَجَعَلۡنَاﲒ
لَهُمۡﲓ
أَزۡوَٰجٗاﲔ
وَذُرِّيَّةٗۚﲕﲖ
وَمَاﲗ
كَانَﲘ
لِرَسُولٍﲙ
أَنﲚ
يَأۡتِيَﲛ
بِـَٔايَةٍﲜ
إِلَّاﲝ
بِإِذۡنِﲞ
ٱللَّهِۗﲟﲠ
لِكُلِّﲡ
أَجَلٖﲢ
كِتَابٞﲣ
٣٨ﲤ
We have certainly sent messengers before you ˹O Prophet˺ and blessed them with wives and offspring. It was not for any messenger to bring a sign without Allah’s permission. Every destined matter has a ˹set˺ time.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 13:38 to 13:39

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب عام انسان کی طرح ایک انسان تھے اور دنیوی تعلقات رکھتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قوموں نے اس کے باوجود پچھلے پیغمبروں کو مانا اور اپنے معاصر پیغمبر کا اسی سبب سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ مزید ایک چیز شامل تھی جو معاصر پیغمبر کو حاصل نہ تھی۔ یہ مزید چیز تاریخ کی عظمت ہے۔ قوموں نے تاریخی عظمت کی بنا پر پچھلے پیغمبروں کو مانا اور تاریخی عظمت سے خالی ہونے کی بنا پر معاصر پیغمبر کاانکار کردیا۔

انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ حقیقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ نہیں پاتا۔ زندہ پیغمبرکے ساتھ حقیقت مجرد روپ میں تھی۔ اس لیے انسان ان کو پہچان نہ سکا۔ تاریخ کے پیغمبر کے ساتھ اضافی اہمیتیں بھی شامل ہوچکی تھیں اس لیے اس نے ان کو پہچان لیا اور ان کا معتقد بن گیا۔

’’امُّ الکتاب‘‘ سے مراد خدا کا وہ اصل نوشتہ ہے جو خدا کے پاس ہے اور جس میں ہدایت کی وہ تمام اصولی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو خدا کو انسان سے مطلوب ہیں۔ مختلف پیغمبروں پر جو کتابیں اتریں وہ سب اسی ام الکتاب سے ماخوذ تھیں۔ خدا نے اپنی یہ کتاب کبھی ایک زبان میں اتاری اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔