undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت نمبر 25

یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی سے دیتے تھے۔ لیکن یہ لوگ فساد فی الارض برپا کرتے ہیں۔ اہل دانش کی جن چیزوں کا اوپر ذکر ہوا ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے سے فساد فی الارض نمودار ہوتا ہے۔

” وہ لوگ “ وہ جو اللہ سے دور ہیں اور راندۂ درگاہ ہیں ان کے لئے لعنت ہے۔ تکریم و استقبال کے مقابلے میں راندگی ہے اور نعم الدار کے مقابلے میں سوء الدار ہے۔

یہ لوگ اس لیے راندۂ درگاہ ہوئے کہ وہ متاع حیات دنیا میں ہی غرق رہے اور ان کی نظریں آخرت کی دائمی نعمتوں کی طرف نہ اٹھ سکیں۔ حالانکہ رزق کا تعین صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی اس میں توسیع بھی کرتا ہے ، وہی رزق میں تنگی بھی کرتا ہے ، یہ سب کام اللہ کے اختیار میں تھا اور کوئی شخص اپنے لیے خود فراخی رزق کا انتظام نہیں کرسکتا تھا کہ اس پر اتراتا۔ اگر یہ لوگ آخرت کے طلبگار ہوتے تو یہ ضروری نہ تھا کہ اللہ ان سے دنیا کی خوشحالی چھین لیتا کیونکہ وہی داتا تھا۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%