3

یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔

یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔

وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔

لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔