You are reading a tafsir for the group of verses 12:83 to 12:87
3

’’تم نے بات بنالی ہے‘‘ کہہ کر حضرت یعقوب نے برادران یوسف کے دل کا کھوٹ واضح کیا۔ وہ باپ کے یہاں سے گئے تو مکمل حفاظت کا وعدہ کرکے اس کو ساتھ لے گئے۔ اور جب بن یامین کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہوا تو اس کی طرف سے اتنی مدافعت بھی نہ کرسکے کہ یہ کہتے کہ محض پیالہ برآمد ہونے سے وہ چور کیسے ثابت ہوگیا۔ شاید کسی اور نے رکھ دیا ہو یا کسی غلطی سے وہ اس کے اسباب کے ساتھ بندھ گیا ہو۔ اس کے برعکس، انھوںنے یہ کیا کہ یہ کہہ کر اس کے جرم کو مصریوں کی نظر میں اور پختہ کردیا کہ اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے۔

حضرت یعقوب اگرچہ دو عزیز بیٹوں کو کھونے کی وجہ سے بے حد غم زدہ تھے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خدا سے اس کی رحمت کی امید بھی لگائے ہوئے تھے۔ ان کا اب بھی یہ خیال تھا کہ یوسف کا ابتدائی زمانہ کا خواب ایک خدائی بشارت تھا اور وہ ضرور پورا ہوگا۔ اسی لیے انھوں نے بیٹوں سے کہا کہ جاؤیوسف کو تلاش کرو اور بن یامین کی رہائی کی بھي کوشش کرو۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%