آیت 3 نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ قَصَص ق کی زبر کے ساتھ یہاں بطور مصدر آیا ہے اور اس کے معنی ہیں ”بیان“۔ اگر لفظ قِصَص ق کی زیر کے ساتھ ہوتا تو قصہ کی جمع کے معنی دیتا ‘ اور اس صورت میں اس کا ترجمہ یوں ہوتا کہ ہم آپ کو بہترین قصہ سنا رہے ہیں۔ بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْاٰنَق وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ یعنی قرآن میں اس وحی سورت کے نزول سے پہلے آپ اس واقعہ سے واقف نہیں تھے۔
0%